پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق رہنماؤں کے ایک گروپ نے، جس نے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی (NDC) تشکیل دی ہے تاکہ سیاسی مصالحت کو فروغ دیا جا سکے، وزیراعظم شہباز شریف سے رسمی طور پر درخواست کی ہے کہ کوٹ لکھپت جیل میں قید سینیئر پی ٹی آئی رہنماؤں کو پیرول پر رہا کیا جائے۔
کمیٹی کا کہنا ہے کہ ان رہنماؤں کی آزادی کسی بھی متوقع ڈائیلاگ کو مؤثر اور معتبر بنانے کے لیے ضروری ہے۔
کمیٹی کی جانب سے 23 دسمبر کو بھیجے گئے خط میں وزیراعظم کے مخالفت کے ساتھ مذاکرات کی تجدید شدہ پیشکش کا خیرمقدم کیا گیا اور اسے ملک میں گہرے سیاسی، معاشی اور ادارہ جاتی چیلنجز کے دوران ایک سنہری موقع قرار دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے حکومت سیاسی درجہ حرارت میں کمی پر متفق، پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ جلد ہوگا، فواد چوہدری
قابل ذکر ہے کہ خط میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کا ذکر نہیں، بلکہ زور اڈیالہ جیل سے باہر سینیئر رہنماؤں کے کردار پر دیا گیا ہے تاکہ وہ مذاکراتی عمل کو شروع اور جاری رکھ سکیں۔
خط میں شامل اہم مطالبات
خط میں سب سے اہم مطالبہ کوٹ لکھپت جیل میں موجود سینیئر پی ٹی آئی رہنماؤں کی رہائی سے متعلق ہے، ان میں شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید اور سابق سینیٹر اعجاز چوہدری شامل ہیں۔

کمیٹی نے کہا کہ ان رہنماؤں کو پیرول پر رہا کیا جائے تاکہ وہ مذاکرات میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
مزید پڑھیں: چوہدری شجاعت سے فواد چوہدری کی وفد کے ہمراہ ملاقات، مل کر کام کرنے پر اتفاق
نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے مزاکرات کی دعوت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے خط میں مزید کہا ہے کہ مذاکرات صرف حقیقی اعتماد سازی کے اقدامات کے ساتھ کامیاب ہو سکتے ہیں اور قیدی رہنماؤں کی رہائی مثبت ماحول پیدا کرے گی اور سیاسی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
سیاسی ہم آہنگی کی اپیل
این ڈی سی نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ پارٹیز کی مفادات سے بالاتر ہو کر کام کریں اور چارٹر آف ڈیموکریسی اور چارٹر آف اکانومی پر اتفاق پیدا کریں، جو طویل مدتی سیاسی استحکام اور معاشی بحالی کے لیے ضروری ہیں۔
یہ بھی پڑھیے محاذ آرائی ترک کیے بغیر پی ٹی آئی کے لیے موجودہ بحران سے نکلنا ممکن نہیں، فواد چوہدری
خط پر سابق پی ٹی آئی رہنماؤں محمود مولوی، عمران اسماعیل اور فواد چودھری کے دستخط موجود ہیں، جنہوں نے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی تشکیل دی تاکہ پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی سہولت فراہم کی جا سکے۔














