وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے جامع قومی انرجی پلان کے لیے علیحدہ سیکریٹریٹ بنانے کی منظوری دے دی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت توانائی پر کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی سفارشات پر جائزہ اجلاس ہوا۔
مزید پڑھیں: سندھ سولر انرجی پروجیکٹ میں اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف
وزیراعظم شہباز شریف نے جامع قومی انرجی پلان کی تشکیل پر متعلقہ وزارتوں اور صوبوں کی مشاورت سے کام کرنے کی اصولی منظوری دے دی۔
وزیراعظم نے جامع قومی انرجی پلان کے لیے علیحدہ سیکریٹریٹ بنانے کی بھی منظوری دی۔
اس کے علاوہ اجلاس میں ویلنگ چارجز کی نیلامی کے لیے فریم ورک گائیڈ لائنز کی اصولی منظوری بھی دی گئی۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ قومی انرجی پلان کی مجوزہ پالیسی میں تمام متعلقہ وزارتیں اور صوبائی حکومتیں باہمی ہم آہنگی کے ساتھ قابل عمل جامع حکمت عملی پیش کریں۔
انہوں نے کہاکہ قومی انرجی پلان کی تشکیل میں صنعتوں کے لیے کم سے کم لاگت پر بجلی کی فراہمی اور گھریلو صارفین کے لیے سہولت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
وزیراعظم نے کہاکہ قومی انرجی پلان میں وزارت موسمیاتی تبدیلی، وزارت خزانہ، وزارت صنعتی پیداوار اور وزارت پیٹرولیم کی سفارشات کو مؤثر انداز میں شامل کیا جائے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ ملک میں بجلی کے ذیلی ترسیلی اداروں (ڈسکوز) کی نجکاری کو مؤثر انداز اور جلد از جلد مکمل کیا جائے۔
انہوں نے کہاکہ ملک کی صنعتی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے لیے صنعتوں کو بجلی مسابقتی ٹیرف پر فراہم کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں بجلی کی ترسیلی نظام میں حالیہ اصلاحات کے بعد بہتری آئی ہے۔ تمام متعلقہ اکائیوں اور وزارتوں کی باہمی ربط سے قومی سطح پر انرجی کے گھریلو اور صنعتی صارفین کے لیے سہولت میں بہتری دیکھی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: ایل جی انرجی سلوشن اور ٹیسلا کے درمیان 4.3 ارب ڈالر کا بیٹری فراہمی معاہدہ
اجلاس میں حکام کی جانب سے بریفنگ میں کہا گیا کہ قومی انرجی پلان کے لیے تمام وزارتوں سے ابتدائی مشاورت کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ احسن اقبال، وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری، وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ، صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور دیگر متعلقہ سرکاری عہدیداران نے شرکت کی۔













