اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ پٹی سے کبھی مکمل طور پر انخلا نہیں کرے گی اور غزہ کے اندر ایک مستقل فوجی یونٹ قائم کیا جائے گا۔
منگل کو خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کاٹز کا کہنا تھا کہ امریکی حمایت یافتہ امن منصوبے کے باوجود، جس پر اکتوبر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان دستخط ہوئے تھے، اسرائیلی فوج غزہ میں تعینات رہے گی۔
یہ بھی پڑھیے: اسرائیلی فوج کی غزہ اور مغربی کنارے میں فائرنگ، 2 افراد شہید، انسانی بحران سنگین
مذکورہ منصوبے میں اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا اور غزہ میں اسرائیلی شہری بستیوں کی بحالی کو مسترد کیا گیا تھا۔ تاہم اب اسرائیلی وزیرِ دفاع نے کہا کہ ہم غزہ کے اندر گہرائی تک موجود ہیں اور ہم کبھی پورے غزہ کو نہیں چھوڑیں گے۔ ہم وہاں حفاظت کے لیے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں شمالی غزہ میں نہال نامی اسرائیلی انفنٹری بریگیڈ کے اڈے قائم کیے جائیں گے، جو ان بستیوں کی جگہ ہوں گے جو ماضی میں ختم کی گئی تھیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق ان بیانات پر امریکی حکام نے ناراضی کا اظہار کیا اور وضاحت کا مطالبہ کیا۔

اسرائیلی وزیرِ دفاع نے یہ بیان مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک تقریب کے دوران دیا، جہاں غیر قانونی اسرائیلی بستی بیت ایل میں 1,200 نئے رہائشی یونٹس کی منظوری دی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: غزہ میں قیامِ امن کے لیے اسرائیلی فورسز کا انخلا ضروری ہے، حافظ نعیم الرحمان
واضح رہے کہ اسرائیل میں 2026 میں انتخابات متوقع ہیں اور غیر قانونی بستیوں کی توسیع ایک اہم سیاسی مسئلہ بن چکی ہے۔ وزیراعظم نیتن یاہو کی اتحادی حکومت میں شامل انتہائی دائیں بازو کے عناصر بارہا غزہ پر دوبارہ قبضے اور مغربی کنارے میں بستیوں کے پھیلاؤ کے ارادے ظاہر کر چکے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے میں تمام اسرائیلی بستیاں غیر قانونی ہیں، جبکہ مقبوضہ علاقوں میں قابض طاقت کی جانب سے اپنی شہری آبادی منتقل کرنا بین الاقوامی فوجداری عدالت کے روم اسٹیچیوٹ کے مطابق جنگی جرم تصور کیا جاتا ہے۔














