پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق مشیر اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے معاون، شہزاد اکبر کو ان کے کیمبرج میں گھر کے قریب حملے میں زخمی کر دیا گیا۔
شہزاد اکبر نے میڈیا کو بتایا کہ حملہ آور ایک سفید فام شخص تھا، جس نے ماسک، دستانے اور حفاظتی لباس پہن رکھا تھا۔ اکبر کے مطابق، حملہ آور نے کئی منٹ تک مجھ پر تشدد کیا جس کے نتیجے میں میری ناک ٹوٹ گئی اور جبڑے میں فریکچر ہوا۔
یہ بھی پڑھیے: عدالت نے پی ٹی آئی رہنما مرزا شہزاد اکبر کو اشتہاری قرار دے دیا
انہوں نے کہا کہ میں صبح تقریباً 8 بجے دروازے کی گھنٹی کی آواز سے جاگا۔ جب میں نے دروازہ کھولا، تو سفید فام شخص نے مجھے گھونسوں سے مارنا شروع کر دیا۔ میں نے مزاحمت کی تو وہ ایک لمحے بعد واپس آیا اور دوبارہ حملہ کیا، اس دوران اس نے میری فلم اور تصاویر بھی بنائیں۔
اکبر نے کہا کہ حملے کے بعد وہ بے ہوش ہو گئے اور قریبی اسپتال میں علاج کے لیے منتقل کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا، میں نے حملہ آور کے خلاف شکایت درج کروا دی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان نے برطانیہ سے شہزاد اکبر اورعادل راجا کی حوالگی کا مطالبہ کردیا
پی ٹی آئی نے اس واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ برطانیہ میں مقیم سیاسی مخالفین کی سیکیورٹی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ، یہ وحشت ناک واقعہ شہزاد اکبر پر پہلے کیے گئے حملوں کی ایک کڑی ہے، جو انہیں پاکستان چھوڑنے پر مجبور کرنے کے بعد بھی جاری ہیں۔
پی ٹی آئی کے مطابق شہزاد اکبر پر حملے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ سیاسی مخالفین اور ناقدین کو اب بھی شدید خطرات لاحق ہیں، چاہے وہ ملک سے باہر رہ رہے ہوں۔














