بنگلہ دیش کی نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے رہنما ناہید اسلام نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان کی 17 برس بعد بنگلہ دیش واپسی ملک میں جاری جمہوری جدوجہد کی ایک مثبت علامت ہے۔
ناہید اسلام کا کہنا تھا کہ طارق رحمان اور ان کے اہلِ خانہ کو سیاسی اختلافات کی بنیاد پر ریاستی جبر اور انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث انہیں طویل عرصے تک جلاوطنی میں رہنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عوامی تحریک، جس میں متعدد شہریوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی، نے ایسا سیاسی ماحول پیدا کیا جس کے نتیجے میں طارق رحمان اور ان کے خاندان کی وطن واپسی ممکن ہو سکی۔
یہ بھی پڑھیے: طارق رحمان کی 17 سال بعد بنگلہ دیش واپسی، پُر جوش استقبال
این سی پی رہنما نے واضح کیا کہ ان کی جماعت ایسے بنگلہ دیش کی خواہاں ہے جہاں جمہوری اقدار کو فروغ حاصل ہو اور سیاسی رہنماؤں کو محض اختلافِ رائے رکھنے پر ریاستی دباؤ یا انتقام کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ طویل سیاسی پابندیوں کا خاتمہ ایک آزاد اور منصفانہ بنگلہ دیش کی جانب اہم قدم ہے، جہاں قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے سیاسی حقوق کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔
ناہید اسلام نے امید ظاہر کی کہ طارق رحمان کی واپسی کثیر الجماعتی جمہوریت کو مضبوط کرے گی اور نئے سیاسی ماحول میں صحت مند سیاسی مقابلے اور باہمی برداشت کو فروغ دے گی۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش میں کشیدگی برقرار، چیف ایڈوائزر کے خصوصی معاون برائے داخلہ مستعفی
انہوں نے طارق رحمان کا وطن واپسی پر خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ بی این پی کے رہنما کی فعال سیاسی شرکت ملک کے جمہوری مستقبل کی تعمیر میں مثبت اور بامعنی کردار ادا کرے گی۔













