کرپٹو مائننگ: پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے سنگ میل یا خطرناک تجربہ؟

جمعہ 26 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں کرپٹو مائننگ کے باقاعدہ آغاز سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس نے ڈیجیٹل معیشت کے مستقبل پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین اور وزیرِ مملکت برائے کرپٹو اینڈ بلاک چین بلال بن ثاقب کا کہنا ہے کہ ملک میں آئندہ چند ہفتوں کے اندر کرپٹو مائننگ کا باضابطہ آغاز ممکن ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: کرپٹو مارکیٹ میں شدید مندی؛ بٹ کوائن ایک ہفتے میں 13 فیصد گر گیا

بلال بن ثاقب کے مطابق اس حوالے سے ابتدائی تیاریاں تیزی سے مکمل کی جا رہی ہیں جبکہ مختلف نجی اداروں کے ساتھ مشاورت کا عمل بھی جاری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کرپٹو مائننگ کا آغاز پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت کی جانب لے جانے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے، جو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کرپٹو مائننگ کے نتیجے میں نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات بھی بڑھیں گے۔ بالخصوص آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں یہ پیش رفت پاکستان کے لیے معاشی طور پر فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے اور عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ میں ملک کے کردار کو مضبوط بنا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: کرپٹو کرنسی کو دیگر کرنسیز میں کیسے منتقل کیا جا سکتا ہے؟

تاہم ماہرین اس پیش رفت کو مکمل طور پر مثبت قرار دینے سے قبل بعض خدشات کی نشاندہی بھی کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں توانائی کے بحران اور واضح ریگولیٹری فریم ورک کی عدم موجودگی کرپٹو مائننگ کے راستے میں ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے، کیونکہ اس عمل کے لیے بھاری مقدار میں بجلی درکار ہوتی ہے، جس پر پہلے ہی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب یہ دلیل بھی دی جا رہی ہے کہ پاکستان میں بجلی کی اضافی پیداواری صلاحیت کے باعث کیپیسٹی پیمنٹس کا بوجھ بڑھ رہا ہے اور کم استعمال کی وجہ سے معیشت کو نقصان کا سامنا ہے۔ ایسے میں اگر اس اضافی بجلی کو کرپٹو مائننگ میں استعمال کیا جائے تو یہ بظاہر ایک معاشی موقع نظر آتا ہے، تاہم ماحولیاتی اثرات، قومی گرڈ پر دباؤ اور کرپٹو کرنسی کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ جیسے خطرات اس فیصلے کو مزید حساس بنا دیتے ہیں

اس حوالے سے کرپٹو کے ماہر نقاش طاہر کے مطابق حکومت کی جانب سے 2,000 میگاواٹ اضافی بجلی کو کرپٹو مائننگ اور اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے مختص کرنے کا منصوبہ بظاہر ایک پرکشش معاشی موقع ہے، لیکن اس کے فوائد اور خطرات دونوں کو ساتھ رکھ کر دیکھنا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیے: شمالی کوریائی ہیکر اربوں ڈالرز مالیت کے کرپٹو اثاثے لے اُڑے

ان کا کہنا ہے کہ اگر اس اضافی بجلی کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا گیا تو پاکستان پر عائد کیپیسٹی پیمنٹس کے بوجھ میں کمی آ سکتی ہے، جبکہ کرپٹو مائننگ کے ذریعے زرمبادلہ حاصل کرنے اور بٹ کوائن جیسے ڈیجیٹل اثاثے بنانے کے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ آئی ٹی اور ڈیٹا سینٹرز کے شعبے میں روزگار اور جدید انفراسٹرکچر کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

تاہم نقاش طاہر خبردار کرتے ہیں کہ اس منصوبے کے ساتھ بڑے خطرات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق کرپٹو مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ کسی بھی وقت مائننگ کو منافع کے بجائے نقصان میں بدل سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خاص طور پر اگر بجلی کی لاگت بڑھ جائے۔ اسی طرح 2,000 میگاواٹ جیسی بڑی مقدار اگر درست منصوبہ بندی کے بغیر گرڈ میں شامل کی گئی تو پیک اوقات میں تکنیکی مسائل اور بریک ڈاؤن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے سبسڈی پر تحفظات اور ماحولیاتی اثرات، خاص طور پر کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کا استعمال، بھی اس منصوبے کو متنازع بنا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: بٹ کوائن کمپنی کے بانی پاکستان کی کارکردگی کے معترف، ہر طرح کی مدد کا اعلان

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ منصوبہ اسی صورت میں کامیاب ہو سکتا ہے جب حکومت شفاف ریگولیٹری فریم ورک، طویل المدتی پالیسی تسلسل اور گرین انرجی کے استعمال کو یقینی بنائے۔ بصورت دیگر، یہ اقدام وقتی فائدے کے باوجود معیشت اور توانائی کے نظام کے لیے نئے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

معاشی امور پر گہری نظر رکھنے والے راجہ کامران کے مطابق پاکستان میں اس وقت بجلی کی اضافی پیداواری صلاحیت ایک بڑا معاشی مسئلہ بن چکی ہے۔ سی پیک کے تحت لگنے والے بجلی گھروں کے معاہدے ایسے وقت میں کیے گئے تھے جب ملک شدید توانائی بحران کا شکار تھا اور معیشت تیزی سے ترقی کر رہی تھی، تاہم 2018 کے بعد معاشی سست روی کے باعث بجلی کی طلب میں اضافہ رک گیا جبکہ پیداواری صلاحیت بدستور موجود رہی۔ اس صورتحال میں حکومت کو بجلی استعمال نہ ہونے کے باوجود کیپیسٹی چارجز کی مد میں بھاری ادائیگیاں کرنا پڑ رہی ہیں۔

راجہ کامران کے مطابق اضافی بجلی کے اس مسئلے کا ایک ممکنہ حل کرپٹو کرنسی مائننگ ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ ایک توانائی استعمال کرنے والی سرگرمی ہے اور عالمی سطح پر کرپٹو کمپنیاں ایسے ممالک کی تلاش میں ہیں جہاں سستی اور وافر بجلی دستیاب ہو۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں چونکہ بجلی پہلے ہی موجود ہے اور نئے پاور پلانٹس لگانے کی ضرورت نہیں، اس لیے کرپٹو مائننگ کے لیے بجلی مختص کرنے سے اضافی پیداواری صلاحیت استعمال میں آ سکتی ہے اور کیپیسٹی چارجز کے بوجھ میں کسی حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان کی ڈیجیٹل کرنسی کرپٹو کرنسیز سے کیسے مختلف ہوگی؟

تاہم راجہ کامران اس امر کی نشاندہی بھی کرتے ہیں کہ کرپٹو کرنسی ایک متنازع شعبہ ہے۔ ان کے مطابق کرپٹو کو ایک ٹیکنالوجی یا لین دین کے آلے کے طور پر تو دیکھا جا سکتا ہے، مگر بطور کرنسی اس کی حیثیت اب بھی عالمی سطح پر غیر یقینی ہے۔ قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ اور ریگولیٹری خدشات کے باعث کرپٹو مائننگ کو پاکستان کے لیے ایک مکمل حل کے بجائے محتاط اور محدود دائرے میں آزمایا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ اس وقت پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان ماضی میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق محتاط مؤقف اختیار کر چکا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس دعوے پر تاحال کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کرپٹو مائننگ کا آغاز کیا جاتا ہے تو اس کے لیے واضح قوانین، شفاف پالیسی اور مضبوط نگرانی کا نظام ناگزیر ہوگا تاکہ ممکنہ مالی اور سیکیورٹی خدشات سے بچا جا سکے۔

فی الحال ثاقب بن بلال کے بیان نے ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت سے وابستہ حلقوں میں بحث کو جنم دے دیا ہے، تاہم حتمی صورتحال حکومت اور متعلقہ اداروں کے باضابطہ مؤقف کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

سعودی عرب: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی او آئی سی اجلاس میں شرکت

کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: 133 افغان طالبان کارندے ہلاک، 2 کور ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد اہم ترین فوجی مراکز تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟