تاجکستان کی سیکیورٹی فورسز نے افغانستان سے دراندازی کرنے والے 3 مسلح دہشتگرد کو ہلاک کر دیا ہے۔
تاجک فورسز کے بیان میں کہا گیا کہ شدت پسندوں کا مقصد تاجکستان کی سرحدی فورسز کے ایک چوکی پر مسلح حملہ کرنا تھا۔ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے شدت پسندوں کے ٹھکانے کی نشاندہی کی اور انہیں ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا، تاہم انہوں نے مزاحمت کی، جس کے نتیجے میں ہونے والی جھڑپ میں تینوں شدت پسند مارے گئے۔
یہ بھی پڑھیے: افغانستان میں چائے کا کپ ہمیں 2012 پر لے آیا، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے متحد ہونا پڑےگا، اسحاق ڈار
ہلاک ہونے والوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور عسکری سامان برآمد ہوا، جن میں ایک ایم-16 رائفل، ایک کلاشنکوف، غیر ملکی ساختہ 3 پستول جن پر سائلنسر لگے ہوئے تھے، دس دستی بم، نائٹ وژن ڈیوائس، دھماکا خیز مواد اور دیگر فوجی سازوسامان شامل ہے۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران تاجک بارڈر ٹروپس کے 2 اہلکار بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
بیان کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران افغانستان سے تاجکستان میں غیرقانونی داخلے کے بعد مسلح حملے کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔ تاجکستان نے افغان طالبان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گرد تنظیموں کے استعمال سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: تاجکستان پر افغانستان سے ہونے والے حملوں میں 5 چینی شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق
یہ واقعہ ان حملوں کے چند ہفتے بعد پیش آیا ہے جن میں افغانستان سے کیے گئے ڈرون حملوں کے نتیجے میں 5 چینی شہری ہلاک اور 5 زخمی ہوئے تھے جس کے بعد چین کے سفارت خانے نے سرحدی علاقوں میں موجود چینی کمپنیوں اور شہریوں کو فوری انخلا کی ہدایت جاری کی۔














