بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے انصاف کو قومی ایجنڈے کا محور بنانے اور نوجوانوں کو بااختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی پائیدار ترقی کے لیے جمہوری اقدار، شفاف قیادت اور نوجوان نسل کی مثبت شمولیت ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کرپشن اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا عزم
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے یہ بات جمعرات کے روز بنگلہ دیش اسلامی چھاترا شبر کے طلبہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ نے یونین انتخابات کے ذریعے جمہوری عمل پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے، جس کا تقاضا ہے کہ اختلافِ رائے کے احترام اور جمہوری اقدار کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
جماعت اسلامی کے امیر نے بنگلہ دیش کے لیے ایک ایسے وژن کا خاکہ پیش کیا جو انصاف، ہمدردی اور جوابدہی پر مبنی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقل استحکام کے حصول کے لیے ملک سے ہر قسم کی امتیازی سوچ اور بدعنوانی کا خاتمہ ضروری ہے۔

انہوں نے نوجوانوں کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو معیاری تعلیم، فنی مہارتوں اور مضبوط اخلاقی بنیادوں سے آراستہ کیا جانا چاہیے تاکہ وہ دوسروں پر انحصار کرنے کے بجائے ملک کی قیادت سنبھال سکیں اور قوم کو آگے لے کر جائیں۔
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے مخلص اور انتھک قیادت کی ضرورت پر بھی زور دیا اور ان تمام قوتوں کا خیرمقدم کیا جو مساوی انصاف، بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس اور جولائی چارٹر پر مکمل عمل درآمد کی حمایت کرتی ہیں، جو موجودہ قومی سیاسی مباحث میں ایک اہم حوالہ بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے حکومتی ’غیر جانبداری‘ پر سوالات اٹھا دیے
اگرچہ انہوں نے کسی مخصوص پالیسی یا ٹائم لائن کا اعلان نہیں کیا، تاہم ان کے یہ بیانات بنگلہ دیش میں حکومتی اصلاحات اور سیاست میں نوجوانوں کی شمولیت سے متعلق جاری بحث کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔














