طوفان، خشک سالی اور سیلاب، سال 2025 موسم اور ماحولیات کے حوالے سے کیسا رہا؟

ہفتہ 27 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حالیہ سال دنیا کے مختلف علاقے قدرتی آفات، شدید موسم اور ماحولیاتی بحران کی زد میں رہے جن سے قیمتی جانوں اور وسائل کا ضیاع ہوا۔

گارڈین کی حالیہ رپورٹ کے مطابق رواں سال پاکستان سمیت جنوب مشرقی ایشیا کے کئی علاقوں میں آنے والے سمندری طوفانوں اور سیلابوں کے نتیجے میں 1,750 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جبکہ ان آفات سے 25 ارب ڈالر (تقریباً 19 ارب پاؤنڈ) سے زیادہ کا نقصان ہوا۔

یہ بھی پڑھیے: موسمیاتی بحران: 2025 گلیشیئرز کے تحفظ کا سال قرار

اسی دوران امریکا کی ریاست کیلیفورنیا میں جنگلاتی آگ سے ہلاکتوں کی تعداد 400 سے تجاوز کر گئی اور مالی نقصان کا تخمینہ 60 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ چین میں تباہ کن سیلاب اس سال کی تیسری مہنگی ترین موسمی آفت قرار دی گئی، جس میں ہزاروں افراد بے گھر ہوئے، کم از کم 30 افراد جان سے گئے اور تقریباً 12 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

بین الاقوامی فلاحی ادارے کرسچن ایڈ کی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2025 میں موسمیاتی تبدیلی سے جڑی 10 بدترین آفات کے باعث بیمہ شدہ نقصانات 120 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اصل نقصان اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے کیونکہ صرف بیمہ شدہ اخراجات ہی درست طور پر ناپے جا سکے، جبکہ انسانی نقصانات جیسے ہلاکتیں، بے گھری اور روزگار کا ضیاع مکمل طور پر شمار نہیں ہو سکا۔

یہ بھی پڑھیے: برازیل میں عالمی ماحولیاتی کانفرنس کا اختتام، موسمیاتی تبدیلی روکنے کے لیے کیا پیشرفت ہوئی؟

رپورٹ کے مطابق ان تباہ کن واقعات کو اکثر قدرتی آفات قرار دیا جاتا ہے، حالانکہ ماہرین کے مطابق یہ محض موسمی تغیر نہیں بلکہ انسان کے پیدا کردہ موسمیاتی بحران کا نتیجہ ہیں۔ امپیریل کالج لندن کی پروفیسر جوانا ہیگ کے مطابق انسانی سرگرمیوں کے باعث ایسے واقعات کی شدت اور تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ آفات فوسل فیول کے مسلسل استعمال اور سیاسی تاخیر کا ناگزیر نتیجہ ہیں۔

ماہرین نے نشاندہی کی کہ اگرچہ ترقی یافتہ ممالک میں مالی نقصان زیادہ دکھائی دیتا ہے، مگر ترقی پذیر ممالک میں انسانی المیہ کہیں زیادہ شدید ہوتا ہے۔ پاور شفٹ افریقہ کے ڈائریکٹر محمد اڈو کے مطابق افریقہ، ایشیا اور کیریبین کے لاکھوں افراد جانیں، گھر اور مستقبل کھو رہے ہیں، اور حکومتوں کو فوری عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں فلپائن میں آنے والے طوفانوں کا بھی ذکر کیا گیا جہاں 14 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے اور 5 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ اس کے علاوہ ایران میں خشک سالی سے تہران کے ایک کروڑ باشندوں کو نقل مکانی کے خطرے کا سامنا ہے، کانگو، نائجیریا، بھارت اور پاکستان میں سیلاب سے ہزاروں افراد جان سے گئے اور کروڑوں متاثر ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے: سپریم کورٹ: عدالت کا مقصد ماحولیات کا تحفظ یقینی بنانا ہے، اسٹون کرشنگ پلانٹس کیس کی سماعت

ادھر ترقی یافتہ ممالک بھی محفوظ نہ رہے؛ آئبیریا میں شدید جنگلاتی آگ، کینیڈا میں خشک سالی اور اسکاٹ لینڈ میں ریکارڈ گرمی کی لہریں دیکھی گئیں۔

نومبر میں برازیل کے شہر بیلم میں ہونے والی اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس کاپ 30 میں امیر ممالک نے غریب ممالک کی مدد کے لیے مالی امداد 3 گنا بڑھانے پر اتفاق کیا، تاہم ماہرین کے مطابق یہ رقم بھی موسمیاتی نقصانات سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہے۔

کرسچن ایڈ کے چیف ایگزیکٹو پیٹرک واٹ نے خبردار کیا کہ جب تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی اور فوسل فیول کا مرحلہ وار خاتمہ نہیں کیا جاتا، موسمیاتی آفات کے نقصانات میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ ان کے مطابق یہ آفات آنے والے خطرات کا واضح اشارہ ہیں اور خصوصاً گلوبل ساؤتھ میں فوری موافقت اور مدد ناگزیر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردوں کی اتحادی، آپریشن کا فیصلہ وفاقی کابینہ نے کرنا ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف

ڈاگ بائٹ کے کیسز میں اضافہ، آوارہ کتوں کو مارنا ناگزیر ہوچکا ہے، مرتضیٰ وہاب

بنگلادیش بھارت میں ورلڈکپ نہ کھیلنے کے فیصلے پر قائم، آئی سی سی کو دوبارہ خط لکھنے کا عندیہ

بابر اعظم بھی انسان ہیں، کوشش کررہے ہیں کہ بیٹنگ میں بہتری لے آئیں، شاہین شاہ آفریدی

شاہین آفریدی کا بیٹا بڑا ہوکر کیا بنے گا؟ کرکٹر نے بتادیا

ویڈیو

خیبرپختونخوا میں گورنر راج، کیا سہیل آفریدی کی چھٹی کا فیصلہ ہوگیا؟

تبدیلی ایک دو روز کے دھرنے سے نہیں آتی، ہر گلی محلے میں عوام کو متحرک کریں گے، سلمان اکرم راجا

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟