ناسا سال 2026 میں انسانوں کو ایک بار پھر چاند کی طرف روانہ کرنے کے لیے تیار ہے، آئندہ سال 4 خلا باز تقریباً 10 روز کے مشن پر چاند کے گرد پرواز کریں گے۔
یہ پرواز، جسے آرٹیمس II کہا جاتا ہے، فروری کے اوائل میں ہو سکتی ہے۔ یہ مشن نیکسٹ جنریشن اسپیس لانچ سسٹم راکٹ اور اوریئن خلائی جہاز کی انسانوں کے لیے پہلی پرواز ہوگی۔ یہ نظام گزشتہ دہائی سے تیار ہو رہا ہے اور متعدد مالی اور تکنیکی مشکلات کا سامنا کر چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: جاپانی کمپنی آئی اسپیس کا دوسرا چاند مشن بھی ناکام، ریزیلینس لینڈر چاند پر گر کر تباہ
صدر ٹرمپ کے پہلے دور حکومت سے امریکا کے چاند پر واپسی کے منصوبے کو ترجیح دی گئی تھی، جبکہ موجودہ انتظامیہ نے چین کے ساتھ جاری خلا مقابلے میں برتری حاصل کرنے پر زور دیا ہے۔ چینی حکام نے 2030 تک اپنے خلا بازوں کو چاند پر اتارنے کا وعدہ کیا ہے۔
آرٹیمس II مشن انسانوں کے لیے چاند پر براہِ راست لینڈ نہیں کرے گا، لیکن یہ مستقبل کے مشنز کے لیے ضروری تکنیکی ٹیسٹ کرے گا۔ ناسا نے 2022 میں آرٹیمس I کے ذریعے بغیر عملے والا ٹیسٹ مشن مکمل کیا تھا۔
چاند مشن میں شامل خلا بازوں میں ریڈ ویزمین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈا کے جیریمی ہینسن شامل ہیں۔ ویزمین، گلوور اور کوچ اپنا دوسرا خلائی سفر کریں گے، جبکہ ہینسن پہلی بار خلا میں جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: انسان مریخ پر کہاں اترے گا؟ جگہ کا تعین ہو گیا
آرٹیمس II کے بعد آرٹیمس III مشن 2027 میں چاند کے جنوب قطب کے قریب لینڈنگ متوقع ہے، جہاں پانی کے یخ بستہ ذخائر موجود ہیں، جو طویل مدتی قیام اور مستقبل کے مریخ مشنز کے لیے اہم ہیں۔
سائنسدانوں کے لیے چاند کی تشکیل، ابتدائی شمسی نظام اور پانی کے ماخذ جیسے سوالات کا جواب تلاش کرنا آرٹیمس مشنز کی سب سے بڑی اہمیت ہے۔ یہ مشن خلا کی تحقیق میں ایک نیا باب کھولے گا اور مستقبل کے انسانی مشنز کے لیے بنیاد فراہم کرے گا۔














