اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو اتوار کے روز امریکا روانہ ہوں گے اور ایک دن بعد فلوریڈا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ یہ رواں سال امریکا میں صدر ٹرمپ سے نیتن یاہو کی 5ویں ملاقات ہوگی۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ اور علاقائی ثالث غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر پیش رفت کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ دسمبر کے وسط میں صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ امکان ہے نیتن یاہو کرسمس کی تعطیلات کے دوران فلوریڈا میں ان سے ملاقات کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے: اسرائیلی صدر نے نیتن یاہو کو معافی دینے کی ٹرمپ کی درخواست مسترد کردی
اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کے مطابق ملاقات میں ایران، اسرائیل-شام سیکیورٹی معاہدے پر ممکنہ بات چیت، لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی اور غزہ معاہدے کے آئندہ مراحل سمیت متعدد علاقائی امور زیرِ بحث آئیں گے۔
اکتوبر میں طے پانے والے غزہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر اب تک پیش رفت سست رہی ہے، جبکہ جنگ بندی بدستور نازک صورتحال سے دوچار ہے اور دونوں فریق ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ ثالثوں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل اور حماس دونوں عمل کو سست کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: غزہ جنگ نے اسرائیل کی ساکھ کو ہلا کر رکھ دیا، بیشتر اسرائیلی اپنی ریاست سے مایوس
معاہدے کے دوسرے مرحلے کے تحت اسرائیل کو غزہ سے انخلا، حماس کے بجائے ایک عبوری فلسطینی انتظامیہ کے قیام اور ایک بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی شامل ہے۔ اس مرحلے میں حماس کے ہتھیار ڈالنے کی شق بھی شامل ہے، جو ایک بڑا تنازعہ بنی ہوئی ہے۔














