بھارت میں دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے ایک سابق حکمران جماعت کے قانون ساز کو مشروط ضمانت دیے جانے کے فیصلے کے بعد سیاسی اور سماجی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے اور دارالحکومت دہلی میں احتجاج بھی ہوا۔
کلدیپ سنگھ سینگر، جو وزیرِاعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی سے تعلق رکھنے والے سابق رکنِ اسمبلی ہیں، کو دسمبر 2019 میں ایک کم سن بچی سے زیادتی کے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ دہلی ہائی کورٹ نے حالیہ حکم میں ان کی سزا اس بنیاد پر معطل کر دی کہ وہ 7 سال سے زائد عرصہ جیل میں گزار چکے ہیں، جبکہ ان کی اپیل تاحال زیرِ سماعت ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بھارتی ریاست تریپورہ میں خاتون کی نیم جلی لاش برآمد، الزام بی جے پی رکن اسمبلی کے بھتیجے پر عائد
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں جنسی جرائم کے مقدمات، عدالتی عمل اور متاثرین کے تحفظ پر پہلے ہی وسیع بحث جاری ہے۔
اس فیصلے کے بعد جمعے کے روز دہلی ہائی کورٹ کے باہر بڑی تعداد میں افراد جمع ہوئے اور فیصلے کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ احتجاج کے باعث سیکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے اور علاقے میں پولیس کی اضافی نفری تعینات رہی۔
تاہم، عدالتی حکم کے باوجود کلدیپ سنگھ سینگر فوری طور پر رہا نہیں ہوں گے کیونکہ وہ ایک دوسرے مقدمے میں بھی سزا کاٹ رہے ہیں، جو متاثرہ لڑکی کے والد کی پولیس حراست میں ہلاکت سے متعلق ہے۔ اس مقدمے میں انہیں اور دیگر ملزمان کو 10 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: لاہور: شہریوں کو ہنی ٹریپ کرنے والا گروہ گرفتار، نقب زن گینگ بھی دھر لیا گیا
یہ کیس ماضی میں اس وقت قومی توجہ کا مرکز بنا جب متاثرہ لڑکی نے 2018 میں خودسوزی کی کوشش کی، جبکہ بعد ازاں 2019 میں ایک سڑک حادثے میں اس کے 2 رشتہ دار جاں بحق ہو گئے۔ ان واقعات کے بعد سپریم کورٹ نے کیس دہلی منتقل کرنے اور متاثرہ کو سیکیورٹی اور مالی معاوضہ فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔
دریں اثنا، مرکزی تحقیقاتی ادارے سی بی آئی نے اعلان کیا ہے کہ وہ دہلی ہائی کورٹ کے ضمانتی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گا، جس سے اس حساس مقدمے میں قانونی عمل کا نیا مرحلہ شروع ہونے کا امکان ہے۔













