جرمنی کی ایک خاتون، جو اسپائنل کارڈ انجری کے باعث وہیل چیئر استعمال کرتی ہیں، نے بلو اوریجن کے نیو شیپارڈ راکٹ کے ذریعے خلا میں پرواز کر کے تاریخ رقم کی۔ یہ فلائٹ تقریباً 10 منٹ کی تھی اور اس دوران مسافر کَرمن لائن عبور کرتے ہوئے خلا کی سرحد پار کر گئے۔
Astronaut Michaela "Michi" Benthaus, who suffered a spinal cord injury after a mountain biking accident in 2018, just made history as the first person using a wheelchair to travel to space. https://t.co/wCIsK3nHKN pic.twitter.com/xxNkEhvUKs
— ABC News (@ABC) December 23, 2025
جرمنی کی ماہر ایرو اسپیس اور میکاٹرونکس انجینئر، میکیلا بینت ہاؤس، جو یورپی اسپیس ایجنسی سے تعلق رکھتی ہیں، نے اپنے خواب کی تعبیر پائی اور اپنی وہیل چیئر پیچھے چھوڑ کر خلا میں تیرتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ حادثے کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ دنیا معذور افراد کے لیے ابھی بھی پوری طرح آسان نہیں اور ہمیں ہر جگہ شمولیت کا خیال رکھنا چاہیے۔
امریکی ارب پتی جیف بیزوس کی کمپنی بلو اوریجن کا ’نیو شیپارڈ‘ راکٹ ٹیکساس سے لانچ ہوا۔ راکٹ عمودی طور پر اُڑا اور مسافروں والا کیپسول پرواز کے دوران الگ ہو کر پیراشوٹ کے ذریعے زمین پر واپس اترا۔
یہ بھی پڑھیں:خلا بازوں نے ریاضی میں حیران کن دریافت کرلی، یہ زمین پر کیوں ناممکن تھی؟
یہ بلو اوریجن کی سولہویں عملے والی پرواز تھی، جس نے کئی سالوں سے اسپیس ٹورزم کے تجربات فراہم کیے ہیں۔ اس فلائٹ میں دیگر مسافر بھی شامل تھے اور کمپنی کا مقصد عوامی دلچسپی برقرار رکھنا اور ایلون مسک کی اسپیس ایکس کے مقابلے میں مارکیٹ میں حصہ لینا ہے۔
بلو اوریجن نے اس سال 2 غیر عملے والی مدار پر پروازیں بھی کامیابی سے مکمل کی ہیں، جن میں نیو گلین راکٹ استعمال ہوا، جو نیو شیپارڈ سے زیادہ طاقتور ہے۔













