پولیس کے مطابق کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ کی گنا منڈی میں واقع ایک گھر سے ایک خاتون اور 3 بچوں کی لاشیں لٹکی ہوئی حالت میں ملی ہیں۔ حکام نے ابتدائی طور پر واقعے کو خودکشی کا شبہ قرار دیا ہے، تاہم تفتیش کا عمل جاری ہے۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ گھر سے مجموعی طور پر 4 لاشیں برآمد ہوئیں، جن میں ایک خاتون اور 3 کم عمر بچے شامل ہیں۔ لاشوں کو قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کراچی کلفٹن سے نوجوان مرد اور خاتون کی لاشیں برآمد
ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیر احمد شیخ نے بتایا کہ ابتدائی شواہد کی بنیاد پر واقعے کو خودکشی کہا جا رہا ہے، تاہم حتمی نتیجہ مکمل شواہد کے جائزے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ایسٹ سے رابطہ کیا اور ہدایت دی کہ تفتیش اور انکوائری کا عمل مکمل طور پر شفاف اور غیر جانبدار رکھا جائے۔ وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ ذمہ دار ملزمان کو جلد عدالت میں پیش کیا جائے۔
پولیس نے بتایا کہ خاتون کے شوہر نجیب اللہ سے تفتیش کی جا رہی ہے، جو سبزی منڈی میں کام کرتا ہے اور اس نے افغان خاتون سے دوسری شادی بھی کر رکھی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: کراچی کے علاقے شرافی گوٹھ سے خاتون کی کئی روز پرانی تشدد زدہ لاش برآمد
پولیس کے مطابق جاں بحق افراد میں 30 سالہ فاطمہ، 10 سالہ سونم، 3 سالہ آرزو اور 2 سالہ ارمان شامل ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ خاتون کا تعلق افغانستان سے تھا جبکہ شوہر کا تعلق لیہ سے بتایا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں بھی کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال بلاک 1 میں ایک گھر سے 3 خواتین کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں، جبکہ ایک شخص بے ہوشی کی حالت میں ملا تھا۔ پولیس کے مطابق مقتول خواتین ماں، بیٹی اور بہو تھیں اور واقعے کی اطلاع خاندان کے کم عمر بیٹے نے دی تھی۔












