پاکستان تحریک انصاف بانی (پی ٹی آئی) عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاجی تحریک شروع کرنے کی تیاری کررہی ہے، تاہم پارٹی کے سینیئر رہنماؤں کا ماننا ہے کہ نئے سال کے ابتدائی چند مہینوں میں تحریک شروع ہونے کے امکانات کم ہیں۔
پارٹی کے باخبر ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی احتجاج کی تیاری کررہے ہیں اور اس سلسلے میں مختلف اضلاع میں جلسے بھی کررہے ہیں۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی احتجاج میں اب اجتماعی استخارہ ہوگا، شیرافضل مروت کا طنز
’سہیل آفریدی کی تیاریاں جاری ہیں، ان کی کوشش ہے کہ کارکنان تیار رہیں۔‘
پی ٹی آئی کے ایک اہم سینیئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سہیل آفریدی علیمہ خان گروپ کے ساتھ ہیں جو بنیادی طور پر احتجاج کے حق میں ہے اور مذاکرات کے بجائے سڑکوں پر احتجاج کو ترجیح دے رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سہیل آفریدی کو اندازہ ہے کہ علی امین گنڈاپور سے کارکنان ناراض ہیں اور منظم احتجاج نہ کرنے پر انہیں وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹایا گیا۔
جنوری میں سردی، فروری میں رمضان، احتجاج کا پلان کب سے؟
پی ٹی آئی کے رہنما نے بتایا کہ پارٹی نئے سال میں احتجاجی تحریک شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے اور عمران خان کی بہنوں سے مشاورت بھی جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2026 کے ابتدائی مہینوں میں احتجاج کی گنجائش نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جنوری میں شدید سردی ہوگی اور کارکنان کے لیے سرد موسم میں نکلنا اور راتیں سڑکوں پر گزارنا مشکل ہوگا، جبکہ فروری میں رمضان آ رہا ہے اور رمضان میں احتجاج مشکل ہوگا۔
ان کے مطابق سہیل آفریدی کی کوشش ہے کہ مکمل تیاری کے ساتھ احتجاج کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ دباؤ پیدا ہو۔
’مارچ کے آخر یا اپریل سے پہلے احتجاج ممکن نہیں، اگر احتجاج شروع ہوا تو اپریل کے بعد ہی ہوگا۔‘
انہوں نے کہاکہ پارٹی کے اندرونی اجلاسوں میں ان تمام امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے اور متفقہ رائے یہی ہے کہ عید کے بعد ہی احتجاج ممکن ہوگا، جس کے لیے مکمل تیاری درکار ہوگی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ عید کے بعد دوبارہ کارکنوں کو فعال کرنے اور مکمل تیاری کے ساتھ نکلنے میں مزید کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔
مذاکرات یا احتجاج؟
پی ٹی آئی کے رہنما کے مطابق پارٹی میں دو گروپ ہیں، ایک مذاکرات جبکہ دوسرا احتجاج کے حق میں ہے۔
’علیمہ خان احتجاج کے حق میں ہیں جبکہ بیرسٹر گوہر اور ان کے ہم خیال افراد مذاکرات چاہتے ہیں۔‘
انہوں نے کہاکہ احتجاج کی کامیابی کا انحصار خیبرپختونخوا پر ہے اور سہیل آفریدی پر اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے، جو خود بھی احتجاجی تحریک کے حق میں ہیں۔ ان کے مطابق احتجاج کے حوالے سے پارٹی میں اختلافات موجود ہیں اور کچھ اہم رہنما تصادم کے بجائے مذاکرات اور جمہوری راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں، جبکہ عمران خان کی بہنیں سڑکوں پر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔
’سہیل آفریدی کی تیاری مکمل، کال محمود خان اچکزئی دیں گے‘
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات شفیع اللہ جان کا کہنا ہے کہ صوبے میں احتجاج کی تیاری مکمل ہے۔
انہوں نے وی نیوز کو بتایا کہ سہیل آفریدی کارکنوں سے مسلسل رابطے میں ہیں اور عمران خان کے لیے پورا صوبہ نکلنے کو تیار ہے۔
’سہیل آفریدی کی تیاری مکمل ہے، آج بھی کال دی گئی تو وہ فرنٹ پر ہوں گے۔‘
انہوں نے کہاکہ کارکنان عمران خان کے ساتھ ہیں اور عمران خان کی کال پر سب نکلیں گے۔
شفیع اللہ جان کے مطابق سہیل آفریدی تیار ہیں لیکن احتجاج کی کال محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس دیں گے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی احتجاج: کے پی پولیس کے وسائل استعمال ہوئے یا نہیں؟ تحقیقات جاری
انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے احتجاج کی ذمہ داری انہی دونوں کو دی ہے اور وہ جب بھی کال دیں گے تو کارکنان نہ سردی دیکھیں گے نہ گرمی، بس نکل کھڑے ہوں گے۔
’ہمارا مقصد عمران خان کی رہائی ہے اور اس کے لیے ہم ہر وقت تیار ہیں۔‘













