بھارت کے کرکٹ بورڈ کے سکریٹری دیواجیت سائین کیا نے وضاحت کی ہے کہ بھارتی بیٹنگ کے عظیم کھلاڑی وی وی ایس لکشمن کو قومی ٹیم کے اگلے ٹیسٹ کوچ کے طور پر منتخب کرنے کے حوالے سے خبریں غیر حقیقی اور بے بنیاد ہیں۔
سائین کیا نے کہا کہ بورڈ نے ٹیسٹ کرکٹ میں قیادت کے ڈھانچے میں کسی تبدیلی کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا۔ میڈیا میں خبریں گردش کر رہی تھیں کہ لکسمان سے اس عہدے کے لیے رابطہ کیا گیا تھا۔ یہ قیاس آرائیاں اس وقت سامنے آئیں جب بھارت نے جنوبی افریقہ کے خلاف گھر پر ٹیسٹ سیریز 0—2 سے ہار کر مایوس کن کارکردگی دکھائی۔
یہ بھی پڑھیے: بھارتی ٹیم کی ٹیسٹ کرکٹ میں ناقص کارکردگی کے باوجود گوتم گمبھیر کا مستعفی ہونے سے انکار
یہ بھارت کا لگاتار دوسرا ہوم وائٹ واش تھا، جس سے پہلے گزشتہ سال نیوزی لینڈ کے خلاف 0—3 کی شکست ہوئی تھی۔ اس شکست نے بھارت کے 12 سال کے ہوم ٹیسٹ ریکارڈ کو بھی داغدار کیا اور طویل عرصے تک ایم ایس دھونی، ویرات کوہلی اور روہت شرما کی قیادت میں غالب رہنے والی ٹیم کی زوال پذیری کا آغاز ظاہر کیا۔
نیوزی لینڈ کے وائٹ واش نے بھارت کو آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ 2025 کے فائنل میں جگہ سے محروم کر دیا تھا، جبکہ جنوبی افریقہ کے خلاف حالیہ شکست بھی ان کے امکان کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، جو آئندہ میچز کے نتائج پر منحصر ہے۔
سائین کیا نے کہا کہ یہ بالکل غلط خبر ہے۔ یہ محض قیاس آرائی ہے۔ کچھ معتبر نیوز ایجنسیز بھی یہ خبر چلا رہی ہیں، لیکن اس میں کوئی حقیقت نہیں۔ کرکٹ بورڈ فوری طور پر اس کی تردید کرتا ہے۔ لوگ جو چاہیں سوچ سکتے ہیں، لیکن بورڈ نے کسی بھی اقدام کا اعلان نہیں کیا۔ یہ کسی کا تصور ہے، اور حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’باہر بٹھا دوں گا!‘، گوتم گمبھیر کی ہرشِت رانا کو دھمکی، بھارتی ٹیم میں آخر چل کیا رہا ہے؟
اگرچہ گوتم گمبھیر کی قیادت میں بھارت نے محدود اوورز کرکٹ میں شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں، جیسے چیمپئنز ٹرافی اور ایشیا کپ ٹی20 کی ناقابل شکست مہم، مگر وہی کامیابی ٹیسٹ کرکٹ میں حاصل نہیں ہو سکی۔ گمبھیر کے دور میں بھارت نے صرف 7 ٹیسٹ میچ جیتے، جبکہ 10 میچز میں شکست اور دو ڈرا کیے۔














