وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے انکشاف کیا ہے کہ بلوچستان کی ایک کم عمر بچی کو دہشتگردی کے لیے مکمل طور پر تیار کیا جا چکا تھا، تاہم ریاست نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے آخری لمحے اسے بچا لیا۔
مزید پڑھیں: کالعدم بی ایل اے کو بیرونی ایجنسیاں فنڈنگ کرتی ہیں، سرفراز بنگلزئی
پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ بچی کو عملی دہشتگردی کے مرحلے کے انتہائی قریب پہنچا دیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق دہشتگردی اب سرحدوں کے پار سے نہیں بلکہ بچوں کے موبائل فون کے اندر داخل ہو چکی ہے، جہاں نفرت انگیز مواد کے ذریعے کم عمر ذہنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سنسنی خیز انکشاف میں کہا گیا کہ کالعدم بی ایل اے بچوں کو بندوق نہیں بلکہ نفرت کے ذریعے ہتھیار بناتی ہے۔
پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ متاثرہ بچی کو کسی نظریے کی تعلیم نہیں دی گئی بلکہ صرف حکم ماننے کی تربیت دی گئی۔ حکام کے مطابق دہشتگردوں نے خود کو خیر خواہ ظاہر کرکے کم سن بچی کا اعتماد حاصل کیا اور اسے منظم انداز میں اپنے جال میں پھنسایا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ بچی کو آہستہ آہستہ اسکول، گھر اور خاندان سے مکمل طور پر الگ کر دیا گیا، جبکہ انکشاف کیا گیا کہ اسے شہر در شہر منتقل کیا گیا تاکہ خاندان تک اس کی رسائی ممکن نہ رہے۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ میں کالعدم بی ایل اے نیٹ ورک کا کارندہ گرفتار، وکالت کی ڈگری ہولڈر نکلا
حکام نے واضح کیا کہ بچی کی شناخت اس لیے خفیہ رکھی گئی ہے کیونکہ وہ کسی جرم کی مرتکب نہیں بلکہ دہشتگردی کا شکار ہے۔ قومی سلامتی وارننگ میں کہا گیا کہ بی ایل اے بچوں کے مستقبل پر حملہ آور ہے اور اب بچوں کا تحفظ ایک سنگین قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکا ہے۔














