افغان طالبان کا نظام حکمرانی سخت مرکزیت، نظریاتی جبر اور اندرونی اختلافات کا شکار

پیر 29 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی سولہویں رپورٹ طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان میں حکمرانی کے نظام کا اب تک کا سب سے مستند بین الاقوامی تجزیہ پیش کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق موجودہ سیاسی ڈھانچہ انتہائی حد تک اختیارات کے ارتکاز، سخت نظریاتی کنٹرول، محدود ادارہ جاتی صلاحیت اور اندرونی تضادات کا شکار ہے، جو طویل المدتی حکمرانی، مؤثر سیکیورٹی اور پائیدار استحکام کے حوالے سے سنجیدہ خدشات کو جنم دیتا ہے۔

مزید پڑھیں: افغان طالبان سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ پاکستانی مؤقف کی واضح تائید ہے، ترجمان دفتر خارجہ

رپورٹ کے مطابق نظام کے مرکز میں طالبان کے امیر ہیبت اللہ اخوندزادہ موجود ہیں جو امیرالمؤمنین کی حیثیت سے بلاشرکت غیرے اختیار رکھتے ہیں۔ وہ محض علامتی سربراہ نہیں بلکہ حتمی فیصلہ ساز ہیں اور ریاستی معاملات کو زیادہ تر مذہبی احکامات کے ذریعے چلاتے ہیں، نہ کہ رسمی ادارہ جاتی مشاورت کے ذریعے۔

ہیبت اللہ اخوندزادہ قندھار میں الگ تھلگ رہتے ہیں جو عملاً طالبان حکومت کا اصل سیاسی مرکز بن چکا ہے، جبکہ پالیسی مباحث یا اجتماعی مشاورت کا کوئی رواج نہیں، اور فیصلہ سازی سختی سے مرکزیت کا شکار ہے۔

اخوندزادہ نے انتظامیہ میں اپنے وفادار افراد تعینات کر رکھے ہیں، جبکہ ہر صوبے میں قائم علما کونسلیں براہِ راست قندھار کو رپورٹ کرتی ہیں۔ یہ ادارے نمائندہ حکمرانی کے بجائے نظریاتی نگرانی کا ذریعہ بن چکے ہیں۔

’قیادت کے اندر اختلاف رائے کی حوصلہ شکنی‘

قیادت کے اندر اختلاف رائے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور اختلاف کرنے والوں کو برطرفی، حراست، دباؤ یا جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس ظاہری اتحاد کے باوجود رپورٹ طالبان کے اندر گہرے اختلافات کی نشاندہی کرتی ہے۔ سب سے نمایاں کشیدگی قندھار میں موجود سخت گیر قیادت اور کابل میں موجود نسبتاً عملی سوچ رکھنے والے عناصر کے درمیان ہے، خصوصاً ہیبت اللہ اخوندزادہ کے قریبی مذہبی حلقے اور حقانی نیٹ ورک کے مابین، جس کی قیادت وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کرتے ہیں۔

حقانی نیٹ ورک نے حکمرانی کی ناکامیوں اور خواتین کی تعلیم پر پابندیوں پر اندرونی سطح پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

2025 کے اوائل میں حج کے بعد سراج الدین حقانی کی طویل غیر حاضری اور واپسی پر محتاط بیانات، داخلی طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش کی عکاسی کرتے ہیں۔ واضح جانشینی منصوبے کی عدم موجودگی قیادت کے تسلسل کو ایک پوشیدہ کمزوری بنا دیتی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق پالیسیوں پر تنقید کرنے والے کئی سینیئر طالبان رہنماؤں، جن میں شیر محمد عباس استانکزئی اور معروف عالم دین عبدالصمد غزنوی شامل ہیں، کو برطرف، گرفتار یا جلاوطن کیا گیا۔

یہ واقعات اس امر کو اجاگر کرتے ہیں کہ نظریاتی ہم آہنگی کو کس قدر سختی سے نافذ کیا جا رہا ہے اور داخلی مذہبی مباحث کو بھی جرم بنایا جا رہا ہے۔

’طالبان حکومت عوامی رضامندی کو اپنی قانونی حیثیت کے لیے ضروری نہیں سمجھتی‘

طالبان حکومت عوامی رضامندی کو اپنی قانونی حیثیت کے لیے ضروری نہیں سمجھتی۔ حکمرانی کا نظام غیر شفاف، اوپر سے نیچے مسلط اور عوامی احتساب سے عاری ہے۔

اکتوبر 2025 میں بغیر کسی وضاحت کے ملک گیر انٹرنیٹ بندش اور بعد ازاں جزوی بحالی، فیصلوں کی من مانی نوعیت کی واضح مثال ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس حکم کو بعد میں وزیراعظم کی جانب سے واپس لیا گیا، جس سے اندرونی اختلافات بھی بے نقاب ہوئے۔

اگرچہ طالبان نے شہری علاقوں میں کنٹرول مضبوط کیا ہے، مگر ملک بھر میں ان کی عملداری یکساں نہیں۔ بعض طاقتور دھڑوں، بالخصوص حقانی نیٹ ورک کو محدود خودمختاری حاصل ہے، بشرطیکہ وہ مرکزی قیادت کو چیلنج نہ کریں۔ مقامی سطح پر بعض غیر مقبول پالیسیوں میں نرمی بھی قانون کی یکسانیت کے فقدان کی نشاندہی کرتی ہے۔

رپورٹ کا ایک نہایت اہم پہلو افغانستان کے تعلیمی نظام کی ازسرِ نو تشکیل ہے۔ تعلیم کو براہِ راست ہیبت اللہ اخوندزادہ کے ماتحت کر کے نظریاتی تلقین کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ نصاب سے جمہوریت، آئین، انسانی حقوق، خواتین کے حقوق، اخلاقیات اور بین الاقوامی اداروں سے متعلق مواد نکال دیا گیا ہے۔

کم از کم 18 تعلیمی مضامین پر مکمل پابندی عائد کی گئی، جبکہ 200 سے زیادہ مضامین کو طالبان نظریے کے مطابق دوبارہ لکھنے کے بعد مشروط اجازت دی گئی۔

سیاسیات، عمرانیات، میڈیا، معیشت اور قانون جیسے شعبے شدید طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ لڑکیوں کی تعلیم پر مسلسل پابندی نہ صرف داخلی طور پر متنازع ہے بلکہ طویل المدتی معاشی نقصانات کا سبب بھی بن رہی ہے۔

20 سے زیادہ شدت پسند گروہ ملک میں سرگرم

سیکیورٹی کے حوالے سے رپورٹ ملی جلی تصویر پیش کرتی ہے۔ مجموعی تشدد میں 2021 سے قبل کے مقابلے میں کمی آئی ہے اور داعش خراسان کے خلاف کارروائیوں سے اسے کمزور کیا گیا ہے، تاہم یہ گروہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور شمالی و مشرقی افغانستان میں اب بھی حملوں کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس کے علاوہ 20 سے زیادہ دیگر شدت پسند گروہ ملک میں سرگرم ہیں، جن میں سے بیشتر طالبان کے ساتھ تعاون پر مبنی تعلقات رکھتے ہیں۔

اس کے علاوہ معاشی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ 2025 کے اوائل میں جی ڈی پی میں نمایاں کمی، بے روزگاری کی شرح قریباً 75 فیصد اضافہ، اور 70 فیصد سے زیادہ آبادی کا انسانی امداد پر انحصار رپورٹ میں نمایاں کیا گیا ہے۔ لاکھوں افغانوں کی جبری واپسی اور خواتین امدادی کارکنوں پر پابندیوں نے بحران کو مزید گہرا کیا ہے۔

مزید پڑھیں: افغان طالبان کا ایران میں ہونے والے علاقائی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

رپورٹ کے مطابق طالبان اگرچہ طاقت کے ذریعے نظم و ضبط قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، مگر یہ استحکام نازک ہے۔ یہ جبر، نظریاتی ہم رنگی اور دباؤ پر مبنی ہے، نہ کہ شمولیتی حکمرانی یا عوامی اعتماد پر۔

پاکستان اور خطے کے لیے یہ داخلی حرکیات گہرے مضمرات رکھتی ہیں، کیونکہ افغانستان ایک سخت گیر، غیر لچکدار اور اصلاحات کے خلاف مزاحم ریاست کے طور پر ابھرتا جا رہا ہے، جو علاقائی استحکام کے لیے مسلسل چیلنج بنا رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

سعودی عرب: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی او آئی سی اجلاس میں شرکت

کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: 133 افغان طالبان کارندے ہلاک، 2 کور ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد اہم ترین فوجی مراکز تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟