پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس میں دی گئی سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کر دی ہیں۔ دونوں نے اس کیس میں علیحدہ علیحدہ اپیلیں پیش کی ہیں۔
مزید پڑھیں: توشہ خانہ ٹو کیس: عمران خان کے سابق ملٹری سیکرٹری کا اہم بیان منظرعام پر آگیا
اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ استغاثہ کیس کو ثابت کرنے میں ناکام رہا اور بلغاری سیٹ کو توشہ خانہ قواعد کے مطابق سابق حکمران جوڑے نے اپنے پاس رکھا تھا۔
اپیل میں مزید کہا گیا کہ صہیب عباسی کو غیر قانونی طور پر سلطانی گواہ بنایا گیا اور عدالت نے وعدہ معاف گواہ کے بیان پر انحصار کیا جو قابل قبول نہیں تھا۔
علاوہ ازیں، اپیل میں یہ بھی کہا گیا کہ اسپیشل سینٹرل جج کے پاس اس کیس کی سماعت کا اختیار نہیں تھا، ایک ہی جرم پر متعدد بار سزا نہیں دی جا سکتی، مقدمہ بغیر مناسب تفتیش قائم کیا گیا اور سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: توشہ خانہ ٹو کیس میں اہم پیشرفت، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے 342 کے بیان عدالت میں جمع
عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ توشہ خانہ ٹو میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔
بانی پی ٹی آئی کی اپیل کو ڈائری نمبر 24560 اور بشریٰ بی بی کی اپیل کو ڈائری نمبر 24561 دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ اسپیشل جج سینٹرل نے دونوں کو مجموعی طور پر 17-17 سال قید کی سزائیں سنائی تھیں، جسے اب ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔













