کبھی نہ ہارنے والی خالدہ ضیا جو سیاست میں نہیں آنا چاہتی تھیں

منگل 30 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن اور 3 مرتبہ ملک کی وزیرِ اعظم رہنے والی بیگم خالدہ ضیاء کو بنگلہ دیش کی جمہوری جدوجہد کی ایک مرکزی اور فیصلہ کن شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔

وہ 30 دسمبر کو ایک نجی ہسپتال میں انتقال کر گئیں، جہاں وہ طویل عرصے سے علالت کا شکار تھیں۔ ان کی صحت اس دور کے دوران اور اس کے بعد مزید خراب ہوئی جب انہیں سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی حکومت میں قید کا سامنا کرنا پڑا۔ شیخ حسینہ کی حکومت کو 2024ء میں عوامی احتجاج کے نتیجے میں اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا۔

بیگم خالدہ ضیاء کے انتقال کو بنگلہ دیش کی سیاست کے ایک اہم دور کے اختتام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس نے ملک کی کثیرالجماعتی مگر اکثر ہنگامہ خیز سیاست کو شکل دی۔

سیاست میں آمد اور قیادت تک سفر

2 بیٹوں کی والدہ، بیگم خالدہ ضیاء نے 1982ء میں اُس وقت سیاست میں قدم رکھا، جب ان کے شوہر، اُس وقت کے صدر اور آرمی چیف جنرل ضیاءالرحمان جو ایک ممتاز مجاہدِ آزادی بھی تھے، کو قتل کر دیا گیا۔

ابتدا میں سیاست میں آنے سے ہچکچاہٹ کے باوجود، وہ جلد ہی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی مرکزی رہنما بن کر ابھریں اور فوجی حمایت یافتہ حکومت کے خلاف اپوزیشن قوتوں کی علامت بن گئیں۔

یہ بھی پڑھیے سابق بنگہ دیشی وزیر اعظم خالدہ ضیا 6 سال بعد منظر عام پر آگئیں

ان کی قیادت میں ہونے والے عوامی احتجاج اور تحریکوں نے جنرل حسین محمد ارشاد کی 9 سالہ حکومت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں ملک میں پارلیمانی جمہوریت کی بحالی ممکن ہوئی۔ اسی دور کے بعد وہ ایک ’غیر لچکدار اور مضبوط قائد‘ کے طور پر جانی جانے لگیں۔

تاریخ ساز کامیابی: پہلی خاتون وزیرِ اعظم

1991ء میں بیگم خالدہ ضیاء ایک مسلم اکثریتی ملک بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم بنیں۔ اگلے 10 برسوں کے دوران انہوں نے 3 مرتبہ وزارتِ عظمیٰ کے فرائض انجام دیے اور ملک کو اہم سیاسی اور معاشی تبدیلیوں کے ادوار سے گزارا۔

ان کی حکومت نے معاشی اصلاحات اور نجی شعبے کے فروغ کی پالیسی اپنائی، جس کے ذریعے بنگلہ دیش کو علاقائی منڈیوں سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔

یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم بیگم خالدہ ضیاء انتقال کر گئیں

انہوں نے لڑکیوں کے لیے مفت تعلیم اور وظائف کا آغاز کیا، جسے خواتین کی تعلیم کے فروغ اور سماجی شمولیت کے حوالے سے ایک تاریخی قدم قرار دیا جاتا ہے۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ وہ کبھی بھی پارلیمانی انتخابات میں شکست سے دوچار نہیں ہوئیں اور مختلف انتخابات میں متعدد نشستوں سے کامیابی حاصل کرتی رہیں۔

جمہوری سیاست میں کردار اور سیاسی مقابلہ

بیگم خالدہ ضیاء کی سیاسی زندگی ان کی دیرینہ حریف شیخ حسینہ کے ساتھ مسلسل مقابلے سے عبارت رہی۔ دونوں رہنماؤں نے باری باری اقتدار اور اپوزیشن میں رہتے ہوئے ملک کی سیاست کو شدید طور پر متاثر کیا۔

حامیوں کے مطابق، بیگم خالدہ ضیاء نے مختلف ادوار میں مرکزیت اور آمرانہ رجحانات کے خلاف کثیرالجماعتی جمہوریت کا دفاع کیا۔

تاہم ناقدین کا کہنا تھا کہ ان کے دور میں خصوصی انسدادِ دہشتگردی فورسز کے قیام کی حمایت کی گئی، جن پر بعد میں انتہا پسند عناصر اور بعض جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف سخت کارروائیوں کے الزامات لگے۔

قانونی مقدمات، قید اور تنازعات

اپنے سیاسی کیریئر کے آخری برسوں میں بیگم خالدہ ضیاء کو متعدد قانونی مقدمات اور قید کا سامنا کرنا پڑا۔ ان پر مختلف الزامات عائد کیے گئے، جن میں بعض پرتشدد واقعات میں ملوث ہونے کے دعوے بھی شامل تھے، تاہم وہ ان تمام مراحل میں اپنے مؤقف پر قائم رہیں۔

بدعنوانی کے مقدمات میں انہیں سزائیں سنائی گئیں، جنہیں ان کی جماعت نے سیاسی انتقام قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیے اسحاق ڈار، بیگم خالدہ ضیا اور ڈاکٹر محمد یونس کے درمیان کیا باتیں ہوئیں؟

72 برس کی عمر میں انہیں ڈھاکہ کی ایک پرانی اور غیر فعال جیل میں تنہائی میں رکھا گیا، جہاں طویل قید اور خراب صحت کے باعث وہ عملی سیاست سے تقریباً الگ ہو گئیں، تاہم بی این پی کے لیے ایک علامتی قائد کے طور پر ان کی حیثیت برقرار رہی۔

وراثت اور عوامی یادداشت

ان کے انتقال کے بعد بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ’قوم کی عظیم سرپرست‘ قرار دیا اور کہا کہ ان کی خدمات احترام کے ساتھ یاد رکھی جائیں گی۔

اسی ماہ عبوری حکومت نے بیگم خالدہ ضیاء کو ’ریاست کی نہایت اہم شخصیت (Very, ‘Very Important Person of the State) قرار دیا، جو عوامی جذبات اور ان کی تاریخی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔

بہت سے بنگلہ دیشی شہریوں اور جنوبی ایشیا کے مبصرین کے نزدیک، بیگم خالدہ ضیاء کی زندگی بنگلہ دیش کی اس طویل جدوجہد کی علامت ہے جس میں سول حکمرانی، فوجی مداخلت اور متنازع جمہوری ادوار ایک دوسرے سے جڑے رہے ہیں۔

ان کے انتقال کے ساتھ ایک ایسی سیاسی شخصیت رخصت ہو گئی ہے، جس کی جدوجہد اور وراثت بنگلہ دیش کی جدید تاریخ اور خطے کی بدلتی ہوئی جمہوری کہانی میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

سعودی عرب: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی او آئی سی اجلاس میں شرکت

کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: 133 افغان طالبان کارندے ہلاک، 2 کور ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد اہم ترین فوجی مراکز تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟