وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت کی توجہ نوجوانوں کو ہنرمندی کی تربیت فراہم کرنے پر مرکوز ہے، کیونکہ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہی نوجوان ملک کی سب سے بڑی معاشی قوت بن سکتے ہیں۔
اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ اصل چیلنج پالیسیوں کے اعلان کے بجائے نتائج کے حوالے سے نظم و ضبط کو یقینی بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سینٹر فار گورنمنٹ ڈیٹا اینالیٹکس کا افتتاح کر دیا
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان 24 کروڑ آبادی پر مشتمل ملک ہے اور سالانہ آبادی میں اضافہ کی شرح تقریباً 2.5 فیصد ہے، جس کے پیش نظر نوجوان آبادی کو باصلاحیت اور ہنر مند بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ غربت کے خاتمے کے لیے پائیدار معاشی بہتری کی جانب بڑھنا ضروری ہے اور اس مقصد کے لیے مؤثر مالیاتی اور ترقیاتی ماڈلز اپنانے کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی 100 ارب ڈالر ’بلیو اکانومی‘ کی صلاحیت کو اجاگر کرنا ہوگا، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ اس تقریب کا مقصد پاکستان کا سوشل امپیکٹ فنانسنگ فریم ورک مشترکہ طور پر تشکیل دینا تھا، تاکہ سماجی شعبے میں سرمایہ کاری کو منظم اور مؤثر بنایا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ فریم ورک محض ایک پالیسی بیان نہیں بلکہ ایک جامع مالیاتی ڈھانچہ ہے، جو نتائج پر مبنی فنڈنگ کو فروغ دے گا۔
مزید پڑھیں: روس سے تیل و توانائی کے شعبے میں ممکنہ معاہدے پر مشاورت جاری ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان سوشل امپیکٹ بانڈ کے تحت خاص طور پر نوجوان خواتین پر توجہ دی جا رہی ہے، تاکہ انہیں معاشی طور پر بااختیار بنایا جا سکے۔
انہوں نے نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن اور ابتدائی اسٹیئر کوڈیل ٹیم کو اس تاریخی اقدام کے اجرا پر مبارکباد بھی دی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ مراحل میں نتائج پر مبنی فنڈنگ کو مزید وسعت دی جائے گی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کی جانب پیش رفت کی جائے گی، تاکہ سماجی اور معاشی ترقی کے اہداف مؤثر انداز میں حاصل کیے جا سکیں۔













