سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ رواں ماہ کی 25 تاریخ کو جاری سابقہ بیان کے تسلسل میں، مملکتِ سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر حضرموت اور المہرہ میں جنوبی عبوری کونسل کی جانب سے کیے گئے کشیدگی پر مبنی اقدامات کے خاتمے اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کیں۔
بیان میں یمنی صدارتی قیادت کونسل اور یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کرنے والے عرب اتحاد کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس میں الفجیرہ بندرگاہ سے بغیر اجازت اسلحہ اور بھاری گاڑیوں سے لدی کشتیوں کے المکلا پہنچنے کا ذکر کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: یمن میں جنگ بندی کی خلاف ورزی پر اتحادی افواج کا سخت ردعمل
وزارت خارجہ کے مطابق مملکتِ سعودی عرب کو اس امر پر افسوس ہے کہ برادر ملک متحدہ عرب امارات نے جنوبی عبوری کونسل پر دباؤ ڈال کر اس کی افواج کو حضرموت اور المہرہ میں مملکت کی جنوبی سرحدوں کے قریب عسکری کارروائیوں پر آمادہ کیا، جو سعودی قومی سلامتی، جمہوریہ یمن کے امن واستحکام اور پورے خطے کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات نہ صرف غیر معمولی حد تک خطرناک ہیں بلکہ یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کے لیے قائم عرب اتحاد کے بنیادی اصولوں سے بھی مطابقت نہیں رکھتے اور نہ ہی یمن کے امن واستحکام کی کوششوں کو تقویت دیتے ہیں۔
مملکت نے واضح کیا کہ اس کی قومی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے یا اس سے چھیڑ چھاڑ کو سرخ لکیر تصور کیا جائے گا، اور اس ضمن میں سعودی عرب ہر وہ اقدام اٹھانے سے گریز نہیں کرے گا جو اس خطرے کے سد باب کے لیے ضروری ہو۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا یمن میں امن و استحکام کی کوششوں کی حمایت کا اعلان
بیان میں اس امر کا اعادہ بھی کیا گیا کہ سعودی یمن کے امن، استحکام اور خودمختاری کی مکمل حمایت جاری رکھے گا اور یمنی صدارتی قیادت کونسل کے صدر اور ان کی حکومت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
سعودی عرب نے ایک بار پھر اس موقف کو دہرایا کہ جنوبی مسئلہ ایک منصفانہ مسئلہ ہے، جس کے تاریخی اور سماجی پہلو ہیں، اور اس کا واحد حل جامع سیاسی عمل کے تحت مذاکرات کی میز پر ممکن ہے، جس میں جنوبی عبوری کونسل سمیت تمام یمنی فریق شریک ہوں گے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب کی یمن کے جنوبی صوبوں میں عسکری نقل و حرکت پر تشویش، کشیدگی ختم کرنے پر زور
وزارت خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ متحدہ عرب امارات یمن کی حکومت کے مطالبے کے مطابق 24 گھنٹوں کے اندر اپنی فوجی افواج یمن سے واپس بلائے اور کسی بھی فریق کو عسکری یا مالی معاونت فراہم کرنے کا عمل فوری طور پر بند کرے۔
سعودی عرب نے امید ظاہر کی کہ دانش مندی، اخوت، حسنِ ہمسائیگی اور خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کو ترجیح دی جائے گی، اور متحدہ عرب امارات ایسے اقدامات کرے گا جو دونوں برادر ممالک کے دوطرفہ تعلقات کے تحفظ اور خطے کے امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کا باعث بنیں گے۔














