اویوا بیگ کون ہیں، گوگل پر کیوں ٹرینڈ کر رہی ہیں؟

منگل 30 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آج 30 دسمبر 2025 کو اویوا بیگ کا نام گوگل پر ٹرینڈ کر رہا ہے۔ یہ نام  سوشل میڈیا پر اچانک مقبول ہونے کے بعد صارفین حیران ہیں کہ آخر یہ شخصیت کون ہے۔

اویوا بیگ دراصل کانگریس رہنما پریانکا گاندھی اور کاروباری شخصیت رابرٹ ودرا کے بیٹے ریحان ودرا سے منسلک ہیں۔ ذرائع کے مطابق ریحان ودرا اور اویوا بیگ نے حال ہی میں اپنے 7 سالہ رشتے کو منگنی کے ذریعے رسمی شکل دی ہے۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Aviva Baig (@avivabaig)

اویوا بیگ کون ہیں؟

اویوا بیگ کی انسٹاگرام پروفائل کے مطابق وہ فوٹوگرافر اور پروڈیوسر ہیں۔ ان کے انسٹاگرام پر 11 ہزار فالوورز ہیں۔ ان کے انسٹاگرام ہینڈل پر خوبصورت تصاویر موجود ہیں۔ کچھ انسٹاگرام اسٹوریز میں وہ ریحان کے ساتھ نظر آئیں۔ بھارتی ذرائع کے مطابق اویوا بیگ دہلی میں اپنے خاندان کے ساتھ مقیم ہیں۔

دوسری جانب ریحان ودرا بھی بصری فنون کے ماہر ہیں اور ان کا انسٹاگرام پروفائل زیادہ تر شاندار فوٹوگرافی سے بھرا ہوا ہے۔ انہوں نے 2021 میں بیکانیر ہاؤس دہلی میں اپنی پہلی سولو نمائش ’ڈارک پرسیپشن‘ پیش کی۔ ودرا کے مطابق یہ نمائش ان کی بصری تفہیم اور روشنی کی تلاش میں اندھیرے کے تصور پر مبنی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا