وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے کہا ہے کہ سال 2025 بھی گزشتہ برس کی طرح صوبے میں تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے اہم اور فیصلہ کن سال ثابت ہوا، جس کے دوران محکمہ تعلیم میں اصلاحات، شفافیت اور معیار کی بہتری پر خصوصی توجہ دی گئی۔
تعلیمی شعبے کی سالانہ کارکردگی بیان کرتے ہوئے وزیر تعلیم نے بتایا کہ محکمہ تعلیم نے دو ملین گھوسٹ انرولمنٹ ختم کر کے نظام کو شفاف بنایا، جبکہ 26 ہزار اساتذہ کی ریشنلائزیشن کے ذریعے اساتذہ کی کمی کے بحران پر قابو پایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا نجی اسکولوں کی فیس کم کرنے کا فیصلہ، حقیقت کیا ہے؟
انہوں نے کہا کہ نصابی اصلاحات پر تاریخی نوعیت کا کام کیا گیا اور امتحانی نظام میں بڑی اصلاحات متعارف کرواتے ہوئے تعلیمی بورڈز کو ای مارکنگ کے نظام پر منتقل کیا گیا۔
2025 میں پنجاب کے تعلیمی شعبے نے اصلاحات، شفاف گورننس اور بڑے منصوبوں کے ذریعے نمایاں پیش رفت کی۔ ان شاء اللہ 2026 میں ہم تعلیمی معیار، مساوات اور نتائج پر مبنی تعلیم کو مزید مضبوط بنیادوں پر آگے بڑھائیں گے۔ pic.twitter.com/x3nLq3uriS
— Rana Sikandar Hayat (@RanaSikandarH) December 23, 2025
رانا سکندر حیات کے مطابق بچپن کی ابتدائی تعلیم پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی اور صوبے کے 10 ہزار اسکولوں میں ارلی چائلڈ ہوڈ ایجوکیشن رومز قائم کیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ صوبے بھر میں روزانہ 11 لاکھ طلبا و طالبات اسکول نیوٹریشن پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں، جبکہ اسکولوں میں بنیادی سہولیات کے فقدان کو دور کرنے کے لیے ریکارڈ اقدامات کیے گئے۔
وزیر تعلیم نے بتایا کہ سال 2025 کے دوران 268 اسکولوں کو اپ گریڈ کیا گیا اور اساتذہ کو ہراسمنٹ سے بچانے کے لیے 37 کیسز پر فیصلے کیے گئے۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب لودھراں کے تاریخی تعلیمی اجتماع میں طلبہ کے درمیان، لیپ ٹاپ تقسیم
انہوں نے مزید کہا کہ نجی تعلیمی اداروں کے طلبا کو بھی 10 ہزار لیپ ٹاپ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاکہ تعلیمی سہولیات میں برابری کو فروغ دیا جا سکے۔
اعلیٰ تعلیم سے متعلق اقدامات پر بات کرتے ہوئے رانا سکندر حیات نے کہا کہ صوبے کے 450 کالجز میں میرٹ کی بنیاد پر پرنسپلز تعینات کیے گئے جبکہ 29 یونیورسٹیوں میں مستقل وائس چانسلرز کی تقرری کا عمل مکمل کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ تمام ہائی اور ہائر سیکنڈری اسکولوں میں سٹیم کلبز قائم ہو چکے ہیں جبکہ سٹیم لیبز بنانے کا عمل جاری ہے۔
مزید پڑھیں: پنجاب ہائر ایجوکیشن کے مختلف شعبوں میں نوکریوں کا اعلان
صوبائی وزیر تعلیم نے سرکاری اسکولوں پر اعتماد بڑھانے کے لیے اپنے بیٹے کو سرکاری اسکول میں داخل کروا کر ایک نئی اور بے مثال روایت قائم کرنے کا بھی حوالہ دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ محکمہ تعلیم کے پاس بتانے کو بہت کچھ ہے کیونکہ ان کا کام خود بولتا ہے، حکومت محض دعوے نہیں کرتی بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے نتائج دکھاتی ہے۔
رانا سکندر حیات نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ سال بھی تعلیم کے میدان میں ریکارڈ کام کیا جائے گا اور اصلاحات کا یہ سلسلہ مزید تیز کیا جائے گا۔














