’بھارت کی جارحانہ حکمت عملی ناکام، پاکستان کو ہر وقت تیار رہنا ہو گا‘

منگل 30 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز اور انفارمیشن سروس اکیڈمی کے زیراہتمام ’بھارت کی جارحیت، پاکستان کا اسٹریٹجک ردعمل اور مستقبل کا لائحہ عمل‘ کے عنوان سے ایک اہم مذاکرے کا انعقاد کیا گیا، جس میں عسکری، سفارتی اور تذویراتی ماہرین نے جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتِ حال پر جامع گفتگو کی۔

مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل (ر) زبیر محمود حیات نے کہاکہ بھارت اس وقت خود اپنے ہی بنائے ہوئے خطرناک راستے پر گامزن ہے اور اس کی بنیادی وجہ اس کا حد سے بڑھا ہوا اعتماد ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا کے پاکستان بھارت تعلقات سے متعلق بیان کا خیرمقدم کرتے ہیں، پاکستان

ان کا کہنا تھا کہ بھارت اپنی جارحانہ سوچ کے باعث علاقائی اور عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔ بھارت کے اسٹریٹجک مفروضات غلط ثابت ہو چکے ہیں اور وہ خطے میں کوئی ’نیو نارمل‘ مسلط کرنے میں ناکام رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیاکہ بھارت کو آپریشن سندور ترک کرکے سفارتکاری، حقیقت پسندی اور تحمل کی راہ اپنانا ہوگی۔

جنرل (ر) زبیر محمود حیات کے مطابق پورے جنوبی ایشیا میں بھارت پر اعتماد ختم ہو چکا ہے اور اب تمام ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات محض لین دین (Transactional) کی سطح تک محدود ہیں۔ امریکا کے ساتھ بھارت کے تعلقات شدید دباؤ کا شکار ہیں جبکہ روس کے ساتھ اس کا پرانا تعلق بھی اب کوئی خاص فائدہ نہیں دے رہا۔

’ہندوتوا نظریے نے بھارت کے لیے اسٹریٹجک اسپیس محدود کردی ہے، جس کے باعث اسے نئی سوچ اور نئی قیادت کی ضرورت ہے۔ بھارت اس وقت عالمی سطح پر تنہا ہو چکا ہے۔‘

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو ایک ذمہ دار سیکیورٹی پرووائیڈر کے طور پر اپنا کردار جاری رکھنا چاہیے، اپنی معاشی طاقت اور سیاسی استحکام کو مضبوط بنانا ہوگا اور قابلِ اعتماد ڈیٹرینس کے لیے سرمایہ کاری کا عمل برقرار رکھنا چاہیے۔ بھارت تحمل کو طاقت اور سفارتکاری کو حکمتِ عملی بنانے میں ناکام رہا ہے، اس لیے پاکستان کو ہر مشکل وقت کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

پاک بھارت کشیدگی کے بعد پیدا صورتحال پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ہے، جوہر سلیم

انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے صدر اور سابق سفیر جوہر سلیم نے کہاکہ بھارت کی جانب سے آپریشن سندور کو ’نیو نارمل‘ قرار دینا ایک غیر سنجیدہ اور بغیر سوچی سمجھی حکمتِ عملی تھی۔

ان کے مطابق پاک بھارت کشیدگی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ہے، تاہم اس سے فائدہ صرف دانشمندانہ حکمتِ عملی کے ذریعے ہی اٹھایا جا سکتا ہے۔

بھارت نے جب بھی پاکستان کو آزمایا اسے منہ توڑ جواب ملا، خالد ربانی

لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد ربانی نے کہاکہ بھارت نے جب بھی پاکستان کو آزمایا، اسے منہ توڑ جواب ملا۔ بھارت اس وقت دنیا بھر سے جدید ترین ہتھیار خرید رہا ہے اور جنوبی ایشیا میں ایک بڑے کردار کا خواہشمند رہا ہے، مگر بھارت کے اندرونی حالات میں ہونے والا ہر واقعہ بالآخر پاکستان کے خلاف جارحیت کا جواز بنا دیا جاتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیاکہ مستقبل میں بھی بھارتی جارحیت کے لیے تیار رہنا ہو گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بھارت کی انا شدید مجروح ہے۔ پاکستان اپنے دفاعی اقدامات کسی صورت کم نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہاکہ دنیا میں کسی کو بھی پاکستان کے عزم کا امتحان نہیں لینا چاہیے۔ سال 2025 پاکستان کے لیے مثبت ثابت ہوا ہے اور ملک کو اسی سمت میں اپنا سفر جاری رکھنا چاہیے۔ جنگیں صرف فوج نہیں بلکہ قومیں لڑا کرتی ہیں۔

جنرل خالد ربانی نے کہاکہ آپریشن سندور خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں جاری صورتحال کے تناظر میں جاری ہے اور ہمیں الرٹ رہنے کی ضرورت ہے۔

بھارت کو کن تین اہم حقائق کا سامنا کرنا پڑا؟

سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے کہاکہ بھارت کو تین اہم حقائق کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں اول یہ کہ اس کے پاس اتنی فوجی طاقت نہیں جتنی وہ خود سمجھتا تھا، دوسرا وہ چین کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اور تیسری بات یہ کہ پاکستان کو دہشتگردی کا مرکز قرار دینے کا بھارتی بیانیہ دنیا نے قبول نہیں کیا۔

انہوں نے کہاکہ اس کے برعکس پاکستان کا عالمی وقار بلند ہوا ہے، اس نے اپنے سے بڑے دشمن کو مؤثر جواب دیا اور دنیا میں اس کی تکریم میں اضافہ ہوا۔

ان کے مطابق بھارت مستقبل قریب میں پاکستان کے ساتھ براہِ راست فوجی کشیدگی کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ اسے دوبارہ تیاری کے لیے وقت درکار ہے۔

اعزاز چوہدری نے مستقبل قریب میں بھارتی جارحیت کے امکان کو اس لیے بھی مسترد کیا کہ بھارتی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ حالیہ کشیدگی میں بھارت دراصل صرف پاکستان نہیں بلکہ چین کے ساتھ بھی محاذ پر تھا۔

اعزاز چوہدری نے کہاکہ چینی قیادت کی جانب سے سی پیک ٹو کا آغاز اس بات کا ثبوت ہے کہ چین پاکستان پر اعتماد کرتا ہے۔ پاکستان کو چین اور امریکا دونوں کے ساتھ متوازن اور بہتر تعلقات قائم رکھنے چاہییں۔

انہوں نے افغانستان کے معاملے کو نظر انداز نہ کرنے پر زور دیا اور کہاکہ طالبان نے اپنا اصل روپ دکھا دیا ہے جبکہ بھارت افغانستان میں پاکستان کے خلاف شورش کو ہوا دیتا رہا ہے۔

ان کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ پاک دفاعی معاہدے نے بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی کو مزید مضبوط کیا ہے۔

پاکستان نے ثابت کیا کہ برتری کیسے حاصل کی جاتی ہے، ماریہ سلطان

ساؤتھ ایشین اسٹریٹجک سٹیبلیٹی کی صدر ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہاکہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی میں یہ ثابت کیا ہے کہ کس طرح ایئر فورس کے اسٹریٹجک اور مؤثر استعمال سے میدان میں برتری حاصل کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے نے پاکستان کو مشرق وسطیٰ کی ایک طاقت بھی بنا دیا ہے۔ پاکستان اب لیبیا، سوڈان اور ایران کی سیکیورٹی کے حوالے سے بھی کام کرے گا اور ہم ایک بات کو مس کر رہے ہیں کہ جس طرح سے افغانستان میں یکایک خاموشی ہو گئی یہ سفارتی اور فوجی حکمت عملی کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت کے لیے پاکستان سے تعلقات خراب نہیں کرسکتے، امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مائیکل کوریلا

مقررین نے اس بات پر اتفاق کیاکہ بدلتے ہوئے علاقائی حالات میں پاکستان کو دفاعی تیاری، سفارتی فعالیت اور معاشی استحکام کے تینوں محاذوں پر بیک وقت مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا۔ بھارت کا نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر کا خواب چکنا چور ہو گیا اور پاکستان ایک سیکیورٹی فورس کے طور پر سامنے آیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاک افغان کشیدگی کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس 3 ہزار سے زائد پوائنٹس گرگیا

ایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کردی

افغان طالبان نے متعدد پوسٹوں پر سفید پرچم لہرا کر امن کی بھیک مانگ لی

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟