وادی کوئٹہ میں حالیہ بارش اور گرد و نواح کے پہاڑوں پر ہونے والی ہلکی برف باری کے بعد یخ بستہ سائبیرین ہواؤں نے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جس کے نتیجے میں سردی کی شدت میں نمایاں اضافہ ہوچکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:لاندی تیار کرنے کے لیے بھیڑ کا گوشت خشک کرنے کی قدیم روایت آج بھی زندہ ہے
صورتحال کے پیش نظر اور زبان کے چٹخارے کے لیے کھانے کے شوقین افراد نے ایک بار پھر کوئٹہ کے معروف روایتی پکوانوں کے ریسٹورنٹس کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے جہاں خاص طور پر فرائی مچھلی کی شہریوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔
شہر کے مختلف علاقوں میں قائم مچھلی کی دکانوں پر ان دنوں شہریوں کا ہجوم دیکھا جا سکتا ہے جو سردی کے اس موسم میں گرم گرم فرائی مچھلی کو رومالی روٹی کے ساتھ شوق سے کھاتے نظر آتے ہیں۔
کوئٹہ میں سردی اور مچھلی کا چولی دامن کا ساتھ
کوئٹہ میں سردی اور مچھلی سے لطف اندوز ہونا پرانی روایت ہے اور شہریوں کا کہنا ہے کہ یخ بستہ موسم میں سمندری مچھلی نہ کھائی جائے تو سردی کا مزہ ادھورا رہ جاتا ہے۔
مزید پڑھیے: نمک منڈی میں چپلی کباب نے بھی جگہ بنالی
شہریوں کے مطابق کوئٹہ کی خون جما دینے والی سردی میں روایتی فرائی مچھلی نہ صرف جسم کو حرارت بخشتی ہے بلکہ یہ پروٹین کا بہترین ذریعہ بھی ہے جو صحت کے لیے بے حد مفید ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سردیوں کے موسم میں مچھلی کے استعمال میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔
ایک دکاندار نے بتایا کہ سردی بڑھتے ہی کوئٹہ کے باسی بڑی تعداد میں ہوٹلوں اور مچھلی کی دکانوں کا رخ کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اس موسم میں سمندری سائمن مچھلی، فنگر فش، ڈمرہ، راہو، پمفلیٹ اور گور شہریوں کی اولین پسند بن جاتی ہیں جن کی فروخت میں معمول کے مقابلے میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔
دکانداروں کا کہنا ہے کہ شدید سردی کے باوجود فرائی مچھلی کی خوشبو اور ذائقے کی چاہ شہریوں کو گھروں سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیتے ہیں اور رات گئے تک مچھلی کی دکانوں پر رش برقرار رہتا ہے۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ کی سلیمانی چائے، سرد شہر کی گرم پہچان اور روایتی ذائقہ
سرد موسم میں یہ منظر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کوئٹہ کے باسی نہ صرف سردی کا مقابلہ بخوبی کرسکتے ہیں بلکہ روایتی ذائقوں سے لطف اندوز ہونا بھی خوب جانتے ہیں۔ سردی اور مچھلی کا مزہ ایک ساتھ محسوس کرنے کے لیے دیکھیے یہ چٹپٹی ویڈیو رپورٹ۔













