امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ امریکا نے وینزویلا میں ایک ایسے ڈاک ایریا کو نشانہ بنایا ہے جسے مبینہ طور پر بین الاقوامی سطح پر منشیات کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ یہ کارروائی منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے امریکی انتظامیہ کی کوششوں کے تحت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وینزویلا میں چین اور روس کی دلچسپی کیا ہے، امریکا کیوں پریشان ہے؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز بتایا کہ امریکا نے وینزویلا میں ایک ’ڈاک ایریا‘ پر حملہ کیا ہے جہاں منشیات کو کشتیوں کے ذریعے دیگر ممالک منتقل کیا جاتا تھا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ امریکا نے منشیات کے خلاف کارروائی کے دوران وینزویلا میں کسی زمینی ہدف کو نشانہ بنایا ہے۔
ٹرمپ نے ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا تھا کہ وینزویلا میں ایک بڑی سہولت کو تباہ کیا گیا ہے، تاہم اس کی تفصیلات اس وقت منظرِ عام پر نہیں آئیں۔ بعد ازاں مارالاگو میں صحافیوں کے سوالات کے جواب میں انہوں نے اس کارروائی کی تصدیق کی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ڈاک مبینہ طور پر وینزویلا کے بدنام زمانہ گروہ ٹرین ڈی اراگوا کے زیر استعمال تھا، جو منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہے۔ سی این این کے مطابق یہ کارروائی ڈرون حملے کے ذریعے کی گئی، جس کی بنیاد امریکی خفیہ معلومات پر تھی۔
صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اس مقام پر کشتیوں کو منشیات سے بھرا جاتا تھا، اس لیے پہلے کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا اور اب اس مرکزی مقام کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وائٹ ہاؤس کا فوج کو وینزویلا کے تیل کی ترسیل روکنے پر توجہ مرکوز رکھنے کا حکم
واضح رہے کہ امریکا نے گزشتہ چند ماہ کے دوران وینزویلا کے قریب کیریبین سمندر میں اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ نومبر میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ بھی اس علاقے میں تعینات کیا گیا تھا۔

امریکی حکام کے مطابق اس فوجی آپریشن کو آپریشن سدرن اسپیئر کا نام دیا گیا ہے، جس کے تحت ہزاروں امریکی فوجی اور متعدد جنگی جہاز خطے میں موجود ہیں۔ امریکا کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد منشیات کی اسمگلنگ روکنا اور وینزویلا پر دباؤ بڑھانا ہے۔
صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ منشیات فروش گروہوں کی سرپرستی کر رہے ہیں اور امریکا میں منشیات کی ترسیل کے ذمہ دار ہیں۔













