وائٹ ہاؤس کا فوج کو وینزویلا کے تیل کی ترسیل روکنے پر توجہ مرکوز رکھنے کا حکم

جمعرات 25 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا نے وینزویلا پر دباؤ بڑھانے کے لیے فوجی کارروائی کے بجائے معاشی پابندیوں کے نفاذ کو ترجیح دیتے ہوئے امریکی فوج کو آئندہ کم از کم 2 ماہ تک وینزویلا کے تیل کی ترسیل روکنے پر توجہ مرکوز رکھنے کا حکم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا نے وینزویلا کے قریب ایک اور آئل ٹینکر پر قبضہ کر لیا

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس نے امریکی فوجی حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ وینزویلا کے تیل کی ترسیل کے خلاف نام نہاد ’قرنطینہ‘ کے نفاذ پر تقریباً مکمل توجہ دیں۔ ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اگرچہ فوجی آپشنز اب بھی موجود ہیں، تاہم موجودہ حکمتِ عملی کا مرکز معاشی دباؤ ہے، جس کے لیے پابندیوں کے سخت نفاذ کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

عہدیدار کے مطابق وائٹ ہاؤس کی کوشش ہے کہ فوجی کارروائی سے پہلے معاشی ذرائع استعمال کر کے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جائیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگرچہ عوامی سطح پر وینزویلا سے متعلق اپنے اہداف واضح نہیں کر رہے، تاہم رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے نجی طور پر وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر اقتدار چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ مادورو کے لیے اقتدار چھوڑ دینا دانش مندانہ فیصلہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:وینزویلا میں مسلح مداخلت انسانی المیہ ہوگی، برازیل کے صدر کا امریکا کو انتباہ

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک کیے گئے اقدامات نے مادورو حکومت پر شدید دباؤ ڈالا ہے اور یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اگر جنوری کے آخر تک امریکا سے بڑے سمجھوتے نہ کیے گئے تو وینزویلا کو سنگین معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکا نے وینزویلا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ منشیات امریکا بھیجنے میں ملوث ہے۔ اسی الزام کے تحت ٹرمپ انتظامیہ گزشتہ کئی ماہ سے جنوبی امریکا سے آنے والی بعض کشتیوں کو نشانہ بناتی رہی ہے، جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ منشیات لے جا رہی تھیں۔ تاہم متعدد ممالک نے ان حملوں کو غیر قانونی اور ماورائے عدالت کارروائیاں قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے۔

اسی دوران امریکی کوسٹ گارڈ نے رواں ماہ کیریبین سمندر میں وینزویلا کے تیل سے لدے 2 ٹینکروں کو تحویل میں لیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق ایک تیسرا جہاز، جس کا نام بیلا-ون بتایا جاتا ہے، قبضے میں لینے کی کوشش بھی کی گئی تاہم یہ جہاز اس وقت خالی تھا۔

دوسری جانب وینزویلا نے امریکی اقدامات کو عالمی سطح پر خطرہ قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ میں وینزویلا کے سفیر سیموئل مونکاڈا نے کہا ہے کہ خطرہ وینزویلا نہیں بلکہ امریکی حکومت ہے۔

ادھر پینٹاگون نے کیریبین خطے میں اپنی فوجی موجودگی نمایاں طور پر بڑھا دی ہے، جہاں 15 ہزار سے زائد امریکی فوجی، ایک طیارہ بردار بحری جہاز، 11 دیگر جنگی جہاز اور متعدد جدید ایف-35 طیارے تعینات ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق ان میں سے کئی فوجی اثاثے تیل کی ترسیل روکنے جیسے اقدامات کے لیے موزوں نہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وینزویلا کے خلاف ’قرنطینہ‘ کی اصطلاح جان بوجھ کر استعمال کی گئی ہے، کیونکہ ’ناکابندی‘ کو جنگی اقدام سمجھا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح 1962 کے کیوبا میزائل بحران کے دوران بھی استعمال کی گئی تھی تاکہ کشیدگی میں اضافہ نہ ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم