قانونی امور کے مشیر ڈاکٹر آصف نذرالاسلام نے منگل کے روز الزام عائد کیا ہے کہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ اور ان کی حکومت بی این پی چیئرپرسن بیگم خالدہ ضیا کی موت کی ذمہ دار ہے، کیونکہ ان کے بقول خالدہ ضیا کو مختلف ادوار میں جیل میں شدید اذیت اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
ڈاکٹر آصف نذرالاسلام نے کہا کہ اگر انہیں مختلف مواقع پر جیل میں تشدد کا نشانہ نہ بنایا جاتا تو شاید ہم انہیں اتنی جلدی نہ کھوتے۔ میرا ذاتی طور پر یہ یقین ہے کہ فاشسٹ وزیراعظم شیخ حسینہ اور ان کی حکومت یقینی طور پر بیگم ضیاء کی موت کی ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے یہ بات دوپہر کے وقت اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس جمنا میں ایڈوائزری کونسل کے خصوصی اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم بیگم خالدہ ضیاء انتقال کر گئیں
آصف نذرالاسلام کا کہنا تھا کہ خالدہ ضیا کو ایک ایسے فیصلے کے تحت جیل بھیجا گیا جو ان کے بقول ’مضحکہ خیز‘ تھا، اور دورانِ قید انہیں ناقابلِ بیان اذیت دی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعد ازاں اپیلوں اور نظرثانی کے مراحل میں یہ سزا بے بنیاد ثابت ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ، خصوصاً اپیلیٹ ڈویژن، اپنے متعدد فیصلوں میں واضح طور پر کہہ چکی ہے کہ وہ مقدمہ جس میں بیگم خالدہ ضیا کو سزا سنائی گئی، بنیادی طور پر کمزور، جان بوجھ کر بنایا گیا اور مشکوک تھا۔
عبوری حکومت کے کردار پر بات کرتے ہوئے قانونی مشیر نے کہا کہ چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس خود خالدہ ضیا کے علاج سے متعلق تمام معاملات کی نگرانی کر رہے تھے۔
آصف نذرالاسلام کے مطابق ’اگر انہیں دوبارہ بیرونِ ملک علاج کے لیے بھیجنے کا کوئی موقع میسر آتا تو ہماری حکومت مکمل تعاون کرتی۔ چیف ایڈوائزر خود ان معاملات پر نظر رکھے ہوئے تھے، مگر ہماری بدقسمتی یہ رہی کہ ہم اس حوالے سے پہلے کوئی قدم نہ اٹھا سکے۔‘
یہ بھی پڑھیے کبھی نہ ہارنے والی خالدہ ضیا جو سیاست میں نہیں آنا چاہتی تھیں
انہوں نے مزید کہا ’ہماری سب سے بڑی تسلی یہ ہے کہ بیگم خالدہ ضیا پورے ملک کے عوام کی محبت، عزت اور وقار کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔‘
ڈاکٹر آصف نذرالاسلام نے یہ بھی بتایا کہ وزارتِ داخلہ میں ایک اجلاس منعقد کیا جائے گا تاکہ خالدہ ضیا کی نمازِ جنازہ اور تدفین کے موقع پر مناسب سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا ’ہم چاہتے ہیں کہ کل جنازہ اور تدفین پُرامن اور منظم انداز میں ہو۔ اس کے لیے ہم سب کے تعاون کے خواہاں ہیں۔‘
انہوں نے سابق حکومت کے خاتمے کے بعد میڈیا کے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو صحافتی اداروں کی جانب سے بھرپور تعاون حاصل رہا ہے۔













