آئی جی بلوچستان پولیس محمد طاہر نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان پولیس میں بہتری لانے کے لیے جامع اصلاحات پر کام جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فورس میں جہاں کمی محسوس کی گئی وہاں مؤثر بہتری اور نفری میں اضافہ کیا گیا، جبکہ سیکیورٹی وسائل کو ریڈ اسٹیشنز تک پہنچا کر پولیس کے رسپانس کو بہتر بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق روٹس کی شفٹنگ اور فورسز کی اسمارٹ ری ڈپلائمنٹ کے ذریعے آپریشنل کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
آئی جی بلوچستان نے کہا کہ بہتر نتائج کے لیے اہل اور پروفیشنل افسران و اہلکاروں کو اہم مقامات پر تعینات کیا جا رہا ہے، جبکہ آپریشنل ایکسرسائزز کو باقاعدہ معمول بنانے پر بھی کام ہو رہا ہے۔ فورس کے ویلفیئر کو ترجیح دی جا رہی ہے اور بدانتظامی یا بدسلوکی پر سخت کارروائی کی جائے گی، جبکہ اچھی کارکردگی دکھانے والے افسران اور جوانوں کو انعامات دیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹریننگ اور کیپیسٹی بلڈنگ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال سے ملٹی پلائی ایفیکٹ حاصل کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں:وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی نئی ذمے داری، چیف آف بگٹی قبائل مقرر
محمد طاہر نے کہا کہ پولیس میں پروفیشنلزم، باڈی لینگویج اور عوام سے بہتر برتاؤ پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے بولان اور بھاگ پولیس اسٹیشن پر دہشتگرد حملوں کے دوران ایس ایچ او اور جوانوں کی جرات مندانہ کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیس نے آخری حد تک دفاع کیا، نہ اسٹیشن چھوڑا اور نہ ہی ہتھیار ڈالے۔ اسی طرح کوئٹہ، پنجگور اور مشکی سمیت دیگر اضلاع میں بھی حملوں کا دلیرانہ جواب دیا گیا، جو بلوچستان پولیس کی قربانیوں کا واضح ثبوت ہے۔
آئی جی بلوچستان کے مطابق بھرتیاں مکمل طور پر میرٹ پر کی جا رہی ہیں اور کسی قسم کا نوٹیفکیشن پرسن سسٹم موجود نہیں۔ بلوچستان کانسٹیبلری اور اسپیشل برانچ میں شفاف ریکروٹمنٹ جاری ہے، جبکہ پوسٹنگز اور ٹرانسفرز میں بھی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ ذاتی اثر و رسوخ کا خاتمہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان پولیس میں مضبوط ایس او پیز اسٹرکچر قائم کیا جا رہا ہے اور سیکیورٹی سے متعلق 12 اہم ایس او پیز پہلے ہی نافذ کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تھریٹ الرٹس، سیکیورٹی شیڈول، حساس تنصیبات اور وی وی آئی پیز کی سیکیورٹی کے لیے تفصیلی ایس او پیز موجود ہیں۔ ٹریننگ کے نئے ڈھانچے پر کام مکمل ہو چکا ہے اور ایڈیشنل آئی جی آپریشنز تعینات کیے گئے ہیں۔ پرائس برانچ کو کوئٹہ کے بعد دیگر علاقوں تک توسیع دی جائے گی، جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی منظوری سے 88 الاؤنس میں اضافہ کیا گیا ہے اور فورس کی نفری قریباً 1500 تک بڑھا دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں:روزگار کی فراہمی سے اسمگلنگ کے خلاف کارروائی تک، اس سال بلوچستان حکومت کی کارکردگی کیسی رہی؟
آئی جی بلوچستان نے بتایا کہ پی سی ون منصوبے اپلوڈ ہو چکے ہیں اور اے ٹی ایم ہیڈکوارٹر مارچ 2025 تک مکمل ہو جائے گا، جبکہ ڈیٹا سینٹرز پر کام تیزی سے جاری ہے اور 2026 تک بیشتر منصوبے مکمل ہونے کی توقع ہے۔ آخر میں انہوں نے بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان پولیس نے پی آئی ٹی بی کے ساتھ ایم او یو پر دستخط کیے ہیں اور آئی ٹی کیڈر کی تشکیل کا عمل بھی جاری ہے۔














