وزارت توانائی کی سال 2025 کی کارکردگی: بجلی صارفین کے لیے ریلیف

بدھ 31 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزارت توانائی، پاور ڈویژن نے سال 2025 میں عوام، صنعتی صارفین اور قومی معیشت کے لیے بے مثال اقدامات کیے، جو برسوں ٹلتے رہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت، چیف آف ڈیفنس سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی حمایت اور وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری کی رہنمائی میں کیے گئے فیصلوں سے صارفین کی بجلی کی قیمتوں میں کمی، نجکاری اور گرین انرجی منصوبوں میں پیش رفت ہوئی۔

وزارت توانائی نے نہ صرف صارفین کے بجلی بلوں میں ریلیف فراہم کیا بلکہ ملکی بجلی نظام کو مضبوط اور ماحولیاتی لحاظ سے پائیدار بنانے کے لیے اہم اقدامات بھی کیے۔

بجلی کے نرخوں میں کمی اور صارفین کے لیے ریلیف

حکومت کی جانب سے گھریلو صارفین کے لیے فی یونٹ بجلی 8.35 روپے اور صنعتی صارفین کے لیے 16.68 روپے فی یونٹ تک کم کی گئی۔ سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی کے بل معاف کیے گئے اور صارفین کو ادائیگی میں رعایت دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی، بھارت نے دریائے چناب پر متنازع پن بجلی منصوبے کی منظوری دے دی

منفی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت کسانوں کے ٹیوب ویل اور 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین نے ریلیف حاصل کیا۔ روشن معیشت پیکیج کے تحت نعتی اور زرعی صارفین کو 3 سال اضافی بجلی استعمال کرنے پر 22.98 روپے فی یونٹ کی سہولت دی گئی۔

آئی پی پیز اور ناکارہ پاور پلانٹس

آئی پی پیز کے ساتھ مشکل مذاکرات کے بعد صارفین اور قومی خزانے پر 3400 ارب روپے کا بوجھ ختم کیا گیا۔ ناکارہ پاور پلانٹس کی بندش سے تنخواہوں کے لیے 7 ارب روپے کا بوجھ عوام سے ہٹا دیا گیا۔ بجلی کی زیادہ پیداوار کو دیکھتے ہوئے 9500 میگاواٹ کے آئندہ منصوبے ختم کر کے صارفین کو فی یونٹ ایک روپے کے ممکنہ اضافے سے بچایا گیا۔

بجلی کے نظام میں شفافیت اور ریکوری

3 بجلی کمپنیوں کی نجکاری کا آغاز ہوا اور پی ٹی وی فیس ختم کر دی گئی۔ بغیر مزید قرضے لیے گردشی قرضوں میں 780 ارب روپے کی کمی لائی گئی۔ الیکٹرک وہیکلز کے چارجنگ ٹیرف میں 44 فیصد کمی کی گئی اور میٹر ریڈنگ کے لیے عوام کو اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ ایپ استعمال کرنے کا اختیار دیا گیا۔ جدید 118 ہیلپ لائن کے آغاز سے سفارش کلچر کا خاتمہ اور سب صارفین کے ساتھ یکساں سلوک ممکن ہوا۔

گرین انرجی اور مستقبل کی منصوبہ بندی

وزارت توانائی نے گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ گرین انرجی منصوبہ شروع کیا، جس سے پاکستان خطے میں گرین انرجی کا لیڈر بن گیا۔ آج ملک کی 55 فیصد بجلی ماحول دوست ذرائع سے پیدا ہو رہی ہے اور 2034 تک اس کا حصہ 90 فیصد تک پہنچانے کا ہدف ہے۔ وزارت نے نجی شعبے کے تحت آزاد اور مسابقتی بجلی نظام کو مضبوط کیا اور ماہر نوجوان پروفیشنلز کی میرٹ پر تقرری یقینی بنائی۔

موسمی اور انفراسٹرکچر کی صورتحال

ملک میں بجلی کی پلاننگ اور عمل درآمد کے دوران عوام اور صنعتی ضروریات کو مدنظر رکھا گیا۔ حکومت نے بجلی کی خرید و فروخت کے معاملات سے الگ رہتے ہوئے صارفین کو بین الاقوامی معیار اور قیمت پر بجلی فراہم کرنے کی کوشش کی۔ وزارت توانائی کا عزم ہے کہ 2026 میں بھی عوام اور صنعتی صارفین کے لیے بے مثال کارکردگی جاری رہے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی او آئی سی اجلاس میں شرکت

کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

’ہم محنت کرتے ہیں تاکہ لوگ آنٹی نہ کہیں‘: نادیہ خان

پنجاب: غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے انخلا کا عمل تیز، 32 ہزار 588 افغان ڈی پورٹ

2025: 7,667 افراد ہجرت کے خطرناک راستوں پر چلتے ہوئے موت کے گھاٹ اتر گئے، اقوام متحدہ

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: 133 افغان طالبان کارندے ہلاک، 2 کور ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد اہم ترین فوجی مراکز تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟

روس بھی باقی دنیا کی طرح افغانستان کی صورتحال سے پریشان