پاک بھارت جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ، یمن میں امن پر زور،ترجمان دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ

جمعرات 1 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ترجمان وزارتِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں، علاقائی و عالمی امور اور اہم دوطرفہ روابط پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور اعتماد سازی کے فروغ کے لیے عملی اور اصولی سفارت کاری پر کاربند ہے۔ بریفنگ میں جہاں پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات کی فہرستوں کے سالانہ تبادلے کو اعتماد سازی کا اہم قدم قرار دیا گیا، وہیں یمن، صومالیہ، فلسطین اور دیگر حساس علاقائی امور پر پاکستان کے واضح اور دوٹوک مؤقف کا اعادہ بھی کیا گیا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات کا سالانہ تبادلہ

ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اور بھارت نے 31 دسمبر 1988 کے معاہدے کے تحت ایک دوسرے کو اپنی جوہری تنصیبات اور سہولیات کی فہرستیں فراہم کر دی ہیں۔ معاہدے کے مطابق دونوں ممالک ہر سال یکم جنوری کو یہ معلومات باقاعدگی سے شیئر کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان کی فہرست وزارتِ خارجہ میں بھارتی ہائی کمیشن کے نمائندے کے حوالے کی گئی، جبکہ بھارتی حکومت نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کو اپنی فہرست فراہم کی۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان بھارت جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ، یمن میں امن پر زور،ترجمان دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ

ترجمان کے مطابق یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے عمل کا حصہ ہے اور خطے میں اسٹریٹجک استحکام کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

یمن کی بگڑتی صورتحال پر گہری تشویش

بریفنگ میں یمن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تشدد پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے پاکستان کی جانب سے گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان یمن کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کے ساتھ کھڑا ہے۔

ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان کسی بھی ایسے یکطرفہ اقدام کی مخالفت کرتا ہے جو صورتحال کو مزید خراب کرے یا خطے کے امن کے لیے خطرہ بنے۔

سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی اور سفارتی رابطے

ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے یمن میں کشیدگی کم کرنے کے لیے علاقائی سطح پر کی جانے والی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے اور سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ پاکستانی مؤقف کی واضح تائید ہے، ترجمان دفتر خارجہ

اسی تناظر میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں خطے کی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی ولی عہد نے پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں، بالخصوص ڈیجیٹل تعاون میں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور 2026 میں پاکستان کے سرکاری دورے کی خواہش ظاہر کی۔

متحدہ عرب امارات کے صدر کا دورۂ پاکستان

ترجمان کے مطابق متحدہ عرب امارات کے صدر اور ابوظہبی کے حکمران وزیراعظم پاکستان کی دعوت پر اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان کے سرکاری دورے پر آئے۔ اسلام آباد میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ترقی اور علاقائی استحکام سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان سال بھر جاری رہنے والے اعلیٰ سطحی روابط کا تسلسل اور باہمی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم کے انتقال پر تعزیت

ترجمان نے بتایا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کی قیادت اور عوام کی جانب سے تعزیت پیش کی۔ انہوں نے مرحومہ کی بنگلہ دیش کے عوام کے لیے خدمات کو سراہا اور پاکستان و بنگلہ دیش کے تعلقات کے فروغ میں ان کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

صومالیہ اور فلسطین پر پاکستان کا دوٹوک مؤقف

ترجمان نے کہا کہ پاکستان صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کی شدید مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے اسرائیل کی جانب سے صومالیہ کے ایک نام نہاد خطے کو تسلیم کرنے کے اعلان کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں:صومالی لینڈ کا تنازع سنگین عالمی بحران میں بدل گیا، آخر یہ معاملہ ہے کیا؟

اسی طرح پاکستان فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کی مخالفت کرتا ہے اور القدس شریف کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا۔

علاقائی و عالمی سفارتی رابطے

ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے صومالیہ کے معاملے پر متعدد اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔ اس کے علاوہ مصر، ازبکستان، صومالیہ اور دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک رابطوں میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

چین کے ساتھ تعاون اور افغانستان سے پاکستانیوں کی واپسی

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان چین کے ساتھ متبادل میکانزم کے تحت دوطرفہ تعاون کے تمام پہلوؤں کا جامع جائزہ لے رہا ہے۔

ترجمان نے افغانستان میں موجود پاکستانی شہریوں کی بحفاظت واپسی سے متعلق بتایا کہ اب تک 15 طلبہ اور 291 پاکستانی شہری واپس آ چکے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 1199 افراد نے واپسی کے لیے مدد طلب کی تھی۔ باقی شہریوں کی واپسی کے لیے سفارتی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔

ترجمان وزارتِ خارجہ کے مطابق پاکستان کی سفارت کاری کا محور خطے میں امن، استحکام، مکالمے اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کا فروغ ہے، اور پاکستان عالمی و علاقائی سطح پر انہی اصولوں کے تحت اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

سعودی عرب: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی او آئی سی اجلاس میں شرکت

کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: 133 افغان طالبان کارندے ہلاک، 2 کور ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد اہم ترین فوجی مراکز تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟