سال 2025 کو بلا شبہ ’مصنوعی ذہانت کا دور‘ قرار دیا جا سکتا ہے، جہاں جدید چیٹ بوٹ ماڈلز، اے آئی سے تیار کردہ غیر معیاری مواد (AI slop) اور ٹیکنالوجی میں بھاری سرمایہ کاری نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کی۔ اب 2026 کا آغاز ہو چکا ہے اور ماہرین کے مطابق یہ سال بھی مصنوعی ذہانت کے میدان میں اہم اور فیصلہ کن تبدیلیاں لے کر آئے گا۔
نئے سال میں اے آئی ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں اس کا کردار مختلف صنعتوں اور شعبوں میں مزید وسیع اور مؤثر ہو جائے گا۔ ماہرین نے 2026 کے لیے چند نمایاں رجحانات کی نشاندہی کی ہے۔
مزید پڑھیں: شادی کرلو ورنہ میری طرح پچھتاؤگے، چینی نوجوانوں کو ’اے آئی خواتین‘ کی دل دہلادینے والی نصیحتیں

ورلڈ ماڈلز کی جانب رجحان
غیر معیاری اے آئی مواد کی بھرمار اور روایتی ٹیکسٹ چیٹ بوٹس کی حدود کے باعث ٹیکنالوجی کی دنیا ’ورلڈ ماڈلز‘ یا ’ڈیجیٹل ٹوئنز‘ کی جانب بڑھ رہی ہے۔ یہ ماڈلز حقیقی دنیا کی ڈیجیٹل نقل ہوتے ہیں، جو حقیقی وقت میں حالات اور حرکات کی پیشگوئی کرسکتے ہیں۔ گوگل، میٹا، چین کی کمپنی ٹینسینٹ اور فی-فی لی کی کمپنی ورلڈ لیبز اس میدان میں پیشرفت کر رہی ہیں، خاص طور پر روبوٹکس اور گیمنگ کے شعبے میں۔
اے آئی ایجنٹس میں غیر معمولی ترقی
2026 میں اے آئی ایجنٹس کا کردار مزید مضبوط ہو جائے گا۔ ادارے فیصلہ سازی اور خودکار اقدامات کے لیے ان پر زیادہ انحصار کریں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایجنٹس پہلے کے مقابلے میں زیادہ خودمختار، طاقتور اور پیچیدہ کوڈنگ کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔
آئی بی ایم کے ماہر کرس ہے کے مطابق دنیا اب ایک ہی مقصد کے لیے بنے ایجنٹس کے دور سے آگے بڑھ چکی ہے اور 2026 میں ’سپر ایجنٹس‘ کا ظہور ہوگا۔

اے آئی ضابطہ کاری پر سماجی کشمکش
مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے ضابطہ کاری سے متعلق خدشات کو جنم دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 2026 میں اے آئی قوانین کے حوالے سے سماجی اور سیاسی سطح پر شدید اختلافات دیکھنے میں آ سکتے ہیں۔ کچھ حلقوں میں یہ خدشہ بھی بڑھ رہا ہے کہ سپر انٹیلیجنس کی دوڑ انسانی روزگار کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، جس کے باعث عوامی مزاحمت میں اضافہ متوقع ہے۔
اے آئی سائیکوسس: ایک نیا خطرہ
اے آئی سائیکوسس ایک ابھرتا ہوا مسئلہ بن چکا ہے، جس میں انسان اور جدید چیٹ بوٹس کے درمیان طویل تعامل ذہنی مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ 2025 میں اس حوالے سے متعدد مقدمات بھی سامنے آئے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر اس مسئلے پر قابو نہ پایا گیا تو 2026 میں یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، خاص طور پر کمزور طبقات کے لیے۔
اے جی آئی اور سپر انٹیلیجنس پر بحث میں کمی
ماہرین کے مطابق 2026 میں مصنوعی عمومی ذہانت (AGI) اور سپر انٹیلیجنس پر ہونے والی بحث نسبتاً کم ہو جائے گی، جبکہ بڑی ٹیک کمپنیاں عملی اور کاروباری سطح پر اے آئی کے استعمال پر زیادہ توجہ دیں گی۔
مزید پڑھیں: کون سا اے آئی چیٹ بوٹ حساب کتاب میں سب سے زیادہ درست ہے؟

کسٹم اے آئی چپس میں اضافہ
فی الحال اے آئی چپس کے شعبے پر چند بڑی کمپنیاں حاوی ہیں، تاہم 2026 میں مخصوص اے آئی ماڈلز اور روبوٹکس کے لیے کسٹم چپس تیار کرنے کا رجحان بڑھے گا۔ اوپن اے آئی کی براڈکام کے ساتھ شراکت داری کو اس سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق 2026 مصنوعی ذہانت کے لیے نہ صرف ترقی بلکہ نئے چیلنجز اور بحثوں کا سال ثابت ہو سکتا ہے، جو ٹیکنالوجی اور معاشرے دونوں پر گہرے اثرات ڈالے گا۔














