یورپی کوپرنیکس پروگرام کے اعداد و شمار پر مبنی تجزیے کے مطابق سال 2025 میں وسطی ایشیا، ساحل کا خطہ اور شمالی یورپ اپنی تاریخ کے گرم ترین سال سے گزرے۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچاؤ کے لیے گلگت بلتستان میں پیشگی اطلاعات کا جدید نظام قائم کیا جائے، وزیرِ اعظم
ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 12 ماہ عالمی سطح پر سال 2024 اور سال 2023 کے بعد تیسرا گرم ترین دور ثابت ہوئے جن کی حتمی تصدیق کوپرنیکس اپنی سالانہ رپورٹ میں جنوری کے اوائل میں کرے گا۔
تاہم خشکی اور سمندروں کے اوسط درجہ حرارت عالمی تصویر تو پیش کرتے ہیں مگر دنیا کے بعض خطوں میں ریکارڈ توڑ گرمی کو پوری طرح ظاہر نہیں کرتے۔
چونکہ کئی غریب ممالک تفصیلی موسمیاتی ڈیٹا شائع نہیں کرتے اس لیے ماہرین نے کوپرنیکس کے موسمی ماڈلز، تقریباً 20 سیٹلائٹس کے مشاہدات اور موسمیاتی اسٹیشنز کے ڈیٹا کی مدد سے آزادانہ تجزیہ کیا۔ یہ ڈیٹا سنہ 1970 سے اب تک گھنٹہ بہ گھنٹہ پوری دنیا کا احاطہ کرتا ہے۔
تجزیے کے مطابق سال 2025 میں 70 سے زائد ممالک میں 120 ماہانہ درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹے۔
وسطی ایشیا میں تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے
وسطی ایشیا کے تمام ممالک میں سالانہ درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے۔
مزید پڑھیے: چین کی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ آلو کی نئی قسم بنانے کی کوشش کتنی کامیاب ہوئی؟
پہاڑی اور خشکی میں گھرے تاجکستان میں صرف 41 فیصد آبادی کو صاف پینے کے پانی تک رسائی حاصل ہے۔ وہاں دنیا میں سب سے زیادہ غیر معمولی گرمی ریکارڈ کی گئی جو سنہ 1981 سے سنہ 2010 کے موسمی اوسط سے 3 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد تھی۔
مئی سے لے کر اب تک نومبر کے علاوہ ہر ماہ درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹے۔ قریبی ممالک قازقستان، ایران اور ازبکستان میں بھی درجہ حرارت موسمی اوسط سے 2 سے 3 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا۔
ساحل کے خطے میں شدید گرمی
ساحل اور مغربی افریقہ کے کئی ممالک میں بھی درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ مالی، نائیجر، نائجیریا، برکینا فاسو اور چاڈ میں درجہ حرارت موسمی اوسط سے 0.7 سے 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔
مزید پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کوئی مفروضہ نہیں، انسانیت کے لیے خطرناک حقیقت ہے، احسن اقبال
نائجیریا میں گزشتہ 12 ماہ تاریخ کے گرم ترین ثابت ہوئے جبکہ دیگر ممالک میں یہ مدت چوتھے گرم ترین برسوں میں شامل رہی۔
ورلڈ ویدر ایٹری بیوشن نیٹ ورک کے سائنس دانوں کے مطابق انسانی سرگرمیوں کے باعث ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں شدید گرمی کے واقعات سنہ 2015 کے بعد تقریباً 10 گنا زیادہ ہو چکے ہیں۔
ساحل کا خطہ، جو سینیگال سے سوڈان تک پھیلا ہوا نیم خشک علاقہ ہے، بڑھتے درجۂ حرارت کے باعث شدید خطرات سے دوچار ہے جہاں پہلے ہی مسلح تنازعات، غذائی قلت اور غربت جیسے مسائل موجود ہیں۔
یورپ میں جھلسا دینے والی گرمی
یورپ کے 10 ممالک سالانہ درجۂ حرارت کے نئے ریکارڈ کے قریب پہنچ گئے یا انہیں توڑنے والے ہیں جس کی بڑی وجہ غیر معمولی طور پر گرم موسمِ گرما ہے۔
یہ بھی پڑھیے: وزیرِاعظم کی ہدایت پر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے جامع پالیسی کی تیاری
سوئٹزرلینڈ اور کئی بلقان ممالک میں گرمیوں کے دوران درجہ حرارت موسمی اوسط سے 2 سے 3 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا۔
اسپین، پرتگال اور برطانیہ میں بھی تاریخ کی بدترین گرمی ریکارڈ کی گئی جس کے نتیجے میں شدید جنگلاتی آگ بھڑک اٹھی۔
برطانیہ میں ایک صدی سے زائد عرصے کی خشک ترین بہار کے باعث پانی کی قلت بھی سامنے آئی۔
اگرچہ شمالی یورپ جون کے آخر میں آنے والی شدید گرمی کی لہر سے نسبتاً محفوظ رہا لیکن وہاں غیر معمولی طور پر گرم خزاں کا موسم دیکھا گیا۔
مزید پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی اور آبادی میں اضافہ ملکی ترقی میں بڑی رکاوٹیں ہیں، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
ناروے، سویڈن، فن لینڈ اور آئس لینڈ میں گزشتہ 12 ماہ ریکارڈ کی تاریخ کے 2 گرم ترین برسوں میں شامل ہونے کی توقع ہے۔














