نئے سال کا آغاز اکثر لوگوں کے لیے نئی شروعات کی علامت ہوتا ہے اور پچھلے 12 ماہ کی پریشانیوں کو پیچھے چھوڑ کر زندگی کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی خواہش جنم لیتی ہے مگر عملی طور پر اپنی سوچ اور عادات بدلنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: ’اپنی خوشیوں کو سائبر مجرموں کا نشانہ بننے سے بچائیں‘، نئے سال کی آمد سے قبل عوام کے لیے اہم ہدایات جاری
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق خوش آئند بات یہ ہے کہ سائنسی تحقیق نے ذہنی سکون اور خوشی بڑھانے کے کئی مؤثر طریقے سامنے رکھے ہیں۔
مزید پڑھیے: خوشی، محبت و دیگر جذبات کے ہارمونز کونسے، یہ ہمارے دماغ پر کیسے حکومت کرتے ہیں؟
ماہرین کے مطابق درج ذیل کچھ عادات اپنا کر سال نو کے دوران میں اپنی ذہنی و جذباتی صحت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
پرفیکٹ بننے کا خیال چھوڑ دیں
پرفیکشن کو عموماً ایک اچھی خوبی سمجھا جاتا ہے مگر ماہرین کے مطابق حد سے زیادہ پرفیکشن ذہنی دباؤ، بے چینی اور اداسی میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ ایسے لوگ خود سے غیر حقیقی توقعات رکھتے ہیں اور معمولی غلطیوں پر بھی خود کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خود پر مہربانی اور ہمدردی کرنا ذہنی صحت کے لیے نہایت ضروری ہے۔ غلطی ہونے پر خود کو معاف کرنا اور نامکمل ہونے کو قبول کرنا انسانیت کی علامت ہے۔
دوستیوں کو مضبوط بنائیں
اچھی دوستی نہ صرف خوشی بڑھاتی ہے بلکہ جسمانی صحت پر بھی مثبت اثر ڈالتی ہے۔ تحقیق کے مطابق مضبوط سماجی تعلقات دل کی بیماریوں کے خطرات کم کر سکتے ہیں اور زندگی کو طویل بنا سکتے ہیں۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ دوسروں کی خوشیوں میں دل سے شریک ہوں، ان کی کامیابیوں پر بات کریں اور خوشی کا اظہار کریں۔ ان باتوں سے تعلقات مزید بہتر ہوتے ہیں۔
سماجی مشغلے اپنائیں
نیا مشغلہ شروع کرنے کے لیے عمر کوئی رکاوٹ نہیں۔ مصوری، موسیقی یا کسی ٹیم اسپورٹس میں حصہ لینا نہ صرف ذہنی دباؤ کم کرتا ہے بلکہ نئے لوگوں سے ملنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: خوش رہنے والے لوگوں میں ایشیا کے باشندے سرفہرست، خوشی کا راز کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق مشترکہ سرگرمیاں انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہیں اور تنہائی کے احساس کو کم کرتی ہیں۔
غصے کو مثبت انداز میں استعمال کریں
غصہ ایک فطری جذبہ ہے مگر اس کا غلط اظہار نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگر غصے کی توانائی کو درست سمت میں استعمال کیا جائے مثلاً ورزش یا تخلیقی کام وغیرہ تو یہ فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جذبات کو دبانے کے بجائے انہیں قابو میں رکھ کر مثبت انداز میں نکالنا بہتر ہے۔
اپنی نعمتوں کو یاد رکھیں
روزانہ چند لمحے نکال کر ان چیزوں کی فہرست بنانا جن پر آپ شکر گزار ہیں ذہنی سکون میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔
مطالعات کے مطابق روز 3 اچھی باتیں لکھنے سے خوشی میں اضافہ اور منفی احساسات میں کمی آتی ہے۔ یہ عادت دنیا کے مختلف معاشروں میں مؤثر ثابت ہوئی ہے۔
فون کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کریں
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ موبائل فون کا حد سے زیادہ استعمال توجہ، نیند اور ذہنی صحت پر اثر ڈال سکتا ہے مگر درست استعمال فائدہ مند بھی ہو سکتا ہے لہٰذا نوٹس لینے، یاددہانی اور غیر ضروری نوٹیفکیشن محدود کرنے سے ذہنی دباؤ کم کیا جا سکتا ہے۔
بعض ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ کبھی کبھار فون کو دوسرے کمرے میں رکھ کر بھی آزمایا جائے۔
سردیوں کو قبول کریں
سردیوں میں دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہونے سے موڈ متاثر ہو سکتا ہے۔ تاہم تحقیق کے مطابق اگر سردیوں کے مثبت پہلوؤں جیسے قدرتی خوبصورتی اور گھر میں اپنوں کے ساتھ وقت گزارنے پر توجہ دی جائے تو اداسی کم ہو سکتی ہے۔
گانا گائیں، دل خوش کریں
سائنس دانوں کے مطابق گانا گانا ذہنی، جسمانی اور سماجی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔
گانے سے سانس کی رفتار بہتر ہوتی ہے، ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے اور خوشی کے ہارمونز متحرک ہوتے ہیں۔ اجتماعی طور پر گانا گانے کے فوائد مزید بڑھ جاتے ہیں۔
قلیل نیند (نیپ) کے لیے وقت نکالیں
دوپہر کے وقت مختصر نیند دماغی کارکردگی کو بہتر بنا سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق 10 سے 20 منٹ کی نیپ توجہ اور یادداشت میں فوری بہتری لا سکتی ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند کا دورانیہ محدود رکھا جائے تاکہ سستی اور بوجھل پن سے بچا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے: ظہران ممدانی یکم جنوری 2026 کو سرکاری رہائشگاہ منتقل ہونگے، غم و خوشی کا ملا جلا اظہار
ماہرین کے مطابق یہ سادہ مگر سائنسی طور پر ثابت شدہ عادات اپنا کر سنہ 2026 میں ذہنی سکون، خوشی اور مجموعی صحت میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔












