عالمی سطح پر سب سے بڑی ڈیجیٹل کرنسی بِٹ کوائن 2022 کے بعد پہلی بار سالانہ خسارے کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی معاشی دباؤ، مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کے بدلتے رجحانات کے باعث بِٹ کوائن کی رفتار اکتوبر کے بعد کمزور پڑ گئی ہے۔ اگرچہ رواں سال کے دوران بِٹ کوائن نے نئی تاریخی بلندیاں بھی چھوئیں، تاہم سال کے اختتام پر اس کے منفی رجحان نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کرپٹو مارکیٹ میں شدید مندی؛ بٹ کوائن ایک ہفتے میں 13 فیصد گر گیا
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بِٹ کوائن رواں سال کے اختتام پر 6 فیصد سے زائد کمی کے ساتھ بند ہونے جا رہا ہے، جبکہ گزشتہ 2 برسوں میں اس نے سالانہ بنیادوں پر نمایاں منافع دیا تھا۔ اس وقت بِٹ کوائن کی قیمت تقریباً 87 ہزار 474 ڈالر کے لگ بھگ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر کے بعد بِٹ کوائن اپنی مضبوط پوزیشن بحال کرنے میں ناکام رہا، جبکہ گزشتہ ماہ اسے وسط 2021 کے بعد سب سے بڑی ماہانہ گراوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔

سال کے آغاز میں امریکا میں کرپٹو دوست صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب کے بعد کرپٹو کرنسیز میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی، تاہم اپریل میں ٹیرف سے متعلق اعلانات کے بعد کرپٹو اور اسٹاک مارکیٹس میں شدید مندی آ گئی۔ بعد ازاں مارکیٹ نے کچھ بحالی دکھائی اور اکتوبر کے اوائل میں بِٹ کوائن 1 لاکھ 26 ہزار ڈالر سے زائد کی تاریخی سطح تک پہنچ گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بٹ کوائن یا گولڈ: موجودہ وقت میں سرمایہ کاری کے لیے بہترین آپشن کیا ہے؟
تاہم 10 اکتوبر کو چین کی درآمدات پر نئے ٹیرف اور اہم سافٹ ویئر کی برآمدات محدود کرنے کی دھمکیوں کے بعد مارکیٹ ایک بار پھر شدید دباؤ کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں لیوریجڈ کرپٹو مارکیٹ میں 19 ارب ڈالر سے زائد کی ریکارڈ لیکویڈیشن ہوئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ 2025 کے دوران بِٹ کوائن کا رویہ روایتی رسک اثاثوں جیسا ہو گیا ہے اور کئی مواقع پر اس کی حرکت امریکی اسٹاک مارکیٹ سے جڑی نظر آئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جیسے جیسے روایتی اور ادارہ جاتی سرمایہ کار کرپٹو مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہیں، ویسے ویسے بِٹ کوائن کا تعلق اسٹاکس، مانیٹری پالیسی اور عالمی مالیاتی خدشات سے مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔












