پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعے کے روز تیزی کا رجحان برقرار رہا، جہاں 100 انڈیکس نے نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے ٹریڈنگ سیشن کے دوسرے حصے میں پہلی بار 179 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر لی۔
دوپہر 2 بج کر 55 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 179,220.99 پوائنٹس پر موجود تھا، جو 2,865.50 پوائنٹس یا 1.62 فیصد کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی کا ملک کی معیشت سے کتنا تعلق ہے؟
مارکیٹ میں خریداری کا رجحان نمایاں رہا، خاص طور پر آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں، بجلی پیدا کرنے والے ادارے اور ریفائنریز میں سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی دیکھی گئی۔
انڈیکس پر زیادہ اثر رکھنے والے حصص، جن میں حبکو، اے آر ایل، ماری پیٹرولیم، او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، پی او ایل، پی ایس او، ایچ بی ایل، این بی پی اور یو بی ایل شامل ہیں، سبز زون میں رہے۔
دوسری جانب ادارہ شماریات کے مطابق دسمبر 2025 میں ملک کی مجموعی افراطِ زر سالانہ بنیاد پر 5.6 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو وزارتِ خزانہ کے 5.5 سے 6.5 فیصد کے تخمینے کے عین مطابق ہے۔
مزید پڑھیں: بِٹ کوائن کو 2022 کے بعد پہلی سالانہ خسارے کا سامنا، عالمی معیشت کو دباؤ کا سامنا
ادھر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق 26 دسمبر 2025 تک پاکستان کے مجموعی مائع زرمبادلہ ذخائر 21 ارب 12 کروڑ ڈالر رہے، جو ایک ہفتہ قبل 19 دسمبر کو ریکارڈ کیے گئے 21 ارب 23 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں معمولی کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔
گزشتہ روز یعنی جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے سال 2026 کا آغاز زبردست تیزی کے ساتھ کیا تھا، جب ہر شعبے میں خریداری کے باعث تمام بڑے انڈیکسز میں نمایاں اضافہ ہوا۔

کے ایس ای 100 انڈیکس 2,301.17 پوائنٹس یا 1.32 فیصد اضافے کے بعد 176,355.49 پوائنٹس پر بند ہوا، جو نئے سال کے پُراعتماد اور مثبت آغاز کی علامت ہے۔
عالمی سطح پر بھی سال 2026 کے آغاز پر اسٹاک مارکیٹس میں مثبت رجحان دیکھا گیا، تاہم تعطیلات کے باعث کاروباری سرگرمیاں محدود رہیں۔
مزید پڑھیں: بِٹ کوائن کو 2022 کے بعد پہلی سالانہ خسارے کا سامنا، عالمی معیشت کو دباؤ کا سامنا
سرمایہ کار ایک ایسے سال کے لیے خود کو تیار کر رہے ہیں جو مصنوعی ذہانت کی قیادت میں جاری تیزی، فیڈرل ریزرو میں قیادت کی تبدیلی اور ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے دوران ممکنہ مارکیٹ اتار چڑھاؤ کے امتحان سے بھرپور ہو سکتا ہے۔
سال کے اختتامی ریلی کے اثرات ابتدائی کاروبار میں برقرار رہے، تاہم تعطیلات کے باعث مارکیٹ میں لیکویڈیٹی کم رہی۔ ایشیا میں جاپان اور چین کی مارکیٹس بند رہیں، جبکہ دیگر مارکیٹس نئے سال کی تعطیلات کے بعد دوبارہ کھلیں۔
مزید پڑھیں: 2025-26 کی پہلی سہ ماہی، ملکی معیشت کے لیے حوصلہ افزا کیوں؟ احسن قبال نے بتادیا
ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک شیئرز پر مشتمل وسیع ترین انڈیکس 0.66 فیصد بڑھ گیا، جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 1.24 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔
امریکا میں ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.29 فیصد اور نیس ڈیک فیوچرز میں 0.36 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یورپی منڈیوں میں ملا جلا رجحان رہا، جہاں یورو اسٹاکس 50 فیوچرز میں 0.5 فیصد کمی جبکہ ایف ٹی ایس ای فیوچرز میں 0.1 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں