بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے ملک میں سیاسی استحکام اور اصلاحات کے لیے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ یہ بات انہوں نے بی این پی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہی۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش: سارک کی روح زندہ ہے، تنظیم فعال ہونی چاہیے، چیف ایڈوائزر محمد یونس
وی نیوز کے مطابق جماعتِ اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے جمعرات کی شام ڈھاکہ کے علاقے گلشن میں بی این پی کے دفتر میں طارق رحمان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے سابق وزیرِاعظم اور بی این پی کی چیئرپرسن بیگم خالدہ ضیا کے انتقال پر طارق رحمان اور ان کے اہلِ خانہ سے تعزیت بھی کی۔

ملاقات میں بی این پی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر اور اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن صلاح الدین احمد بھی موجود تھے۔ رہنماؤں کے درمیان ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور بیگم خالدہ ضیا کے انتقال پر عوامی ردعمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:خالدہ ضیا کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، بنگلہ دیش کی سیاست کا ایک دور ختم
بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا کہ بیگم خالدہ ضیا قوم کی جانب سے غیرمعمولی احترام کے ساتھ رخصت ہوئیں وہ سیاسی اتحاد کی علامت تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خالدہ ضیا کی سیاسی وراثت مستقبل میں اپوزیشن جماعتوں کے درمیان تعاون کی بنیاد بن سکتی ہے۔
انہوں نے فروری کی 12 تاریخ کو متوقع قومی انتخابات اور ریفرنڈم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں مراحل پُرامن اور شفاف ہونے چاہئیں۔ ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا کہ ماضی میں بھی ملکی مفاد میں جماعتِ اسلامی اور بی این پی نے مل کر کام کیا ہے اور آئندہ بھی ایسا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

جماعتِ اسلامی کے امیر نے انتخابات کے بعد اور نئی حکومت کی تشکیل سے قبل تمام سیاسی قوتوں کے درمیان وسیع مشاورت کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ 5 برس کے استحکام کے لیے کھلے دل سے بیٹھ کر قومی مفاد میں فیصلے کرنا ہوں گے۔ ان کے مطابق خالدہ ضیا کے دور میں قائم ہونے والا اتحاد کا پلیٹ فارم مستقبل کے تعاون کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔














