خالدہ ضیا کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، بنگلہ دیش کی سیاست کا ایک دور ختم

بدھ 31 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق وزیراعظم اور بی این پی کی چیئرپرسن بیگم خالدہ ضیا  کی نمازہ جنازہ ادا کردی گئی۔ اس سے قبل ان کا جسدِ خاکی بدھ کے روز دوپہر کے وقت جاتیائیہ سنگشد بھون کے قریب مانک میا ایونیو پہنچایا گیا، جہاں ہزاروں افراد نے انہیں آخری بار دیکھنے اور الوداع کہنے کے لیے جمع ہونا شروع کر دیا۔

خالدہ ضیا کا جسدِ خاکی ایک ایمبولینس کے ذریعے گُلشن میں واقع ان کے صاحبزادے طارق رحمان کی رہائش گاہ سے روانہ ہو کر مانک میا ایونیو پہنچا۔ اس سے قبل وہاں اہلِ خانہ، پارٹی رہنماؤں اور کارکنان نے ان کو آخری سلام پیش کیا۔

بیگم خالدہ ضیا کی نمازِ جنازہ دوپہر 2 بجے قومی پارلیمنٹ کے احاطے میں ادا کی گئی، جبکہ بڑے اجتماع کے پیش نظر مانک میا ایونیو کو بھی جنازہ گاہ کے طور پر استعمال کیا  گیا۔

اس سے قبل صبح تقریباً 9 بجے سے کچھ دیر پہلے خالدہ ضیا کا جسدِ خاکی ایور کیئر اسپتال سے قومی پرچم میں لپیٹ کر گُلشن منتقل کیا گیا تھا، جہاں بی این پی کے سینئر رہنما، قریبی عزیز و اقارب اور پارٹی کارکنان موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیے خالدہ ضیا پر جیل میں تشدد: موت کی ذمہ دار شیخ حسینہ ہے، بنگلہ دیشی مشیر قانون

صبح سویرے ہی ملک کے مختلف علاقوں سے لوگ پارلیمنٹ ہاؤس کے اطراف میں پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔ کئی افراد صبح 4 بجے ہی وہاں موجود تھے، جبکہ بیشتر نے سوگ کی علامت کے طور پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔

سوگواروں میں نواکھالی، فینی، برہمن بریا، بھولا، بوگرا اور میمن سنگھ سمیت مختلف اضلاع سے آئے افراد شامل تھے۔ اس موقع پر ملکی و غیر ملکی سینئر سیاسی رہنماؤں اور سفارت کاروں نے بھی شرکت کر کے خراجِ عقیدت پیش کیا۔

جنازے میں شریک متعدد افراد کو اشکبار آنکھوں کے ساتھ خالدہ ضیا کی سیاسی جدوجہد اور خدمات کو یاد کرتے دیکھا گیا۔

نمازِ جنازہ کے بعد دوپہر تقریباً ساڑھے 3 بجے بیگم خالدہ ضیا کو ان کے مرحوم شوہر، سابق صدر اور بی این پی کے بانی ضیاء الرحمٰن کے پہلو میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ سخت گیر اور اصول پسند سیاسی رہنما کے طور پر پہچانی جانے والی بیگم خالدہ ضیا منگل کی صبح 6 بجے ڈھاکہ کے ایور کیئر اسپتال میں زیرِ علاج رہتے ہوئے انتقال کر گئی تھیں۔
ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم اور تین بار حکومت کی سربراہ رہنے والی شخصیت کے انتقال نے بنگلہ دیش کے سیاسی منظرنامے کو سوگ میں ڈبو دیا ہے۔

ان کی وفات نہ صرف ایک اہم سیاسی باب کے اختتام کی علامت ہے بلکہ یہ ایک ایسے دور کے خاتمے کی بھی نشاندہی کرتی ہے، جس میں خالدہ ضیا بنگلہ دیش کی سیاست کی سب سے مضبوط اور بااثر آوازوں میں شمار ہوتی رہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان کے توانائی شعبے میں بین الاقوامی سرمایہ کاری، علی پرویز ملک سے عالمی کمپنیوں کے وفود کی ملاقاتیں

بھارتی طیارہ حادثے سے بال بال بچ گیا، آج بہت مشکل سے بچے ہیں، خوفزدہ اداکارہ شہناز گل کی ویڈیو وائرل

شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن کی 25 سالہ رفاقت، خصوصی جشن منانے کی تیاری

بند صنعتی یونٹس کی بحالی اور سرمایہ کاروں کے لیے مواقع، وزیر سیاحت عبدالرحمان آرائیں کی محکمے کو ہدایات جاری

موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک گاڑیوں کے مالکان کے لیے فیول سبسڈی، وزیراعظم کا بڑا حکم

ویڈیو

لوگ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کریں، حکومت جلد کفایت شعاری مہم کا اعلان کرنے جارہی ہے، زیب جعفر

سیاسی جماعتوں کے لانگ مارچ: اسلام آباد میں سیکیورٹی سخت، ڈی چوک پر کنٹینرز پہنچا دیے گئے

کچرا سڑک پر پھینکا تو چالان ہوگا، پنجاب میں آگاہی مہم شروع

کالم / تجزیہ

جین زی ماضی کی طرف کیوں جھانک رہی ہے؟

ایک سانس کی قیمت

’ساڈا دل توڑ کے توں ویں پچھتاویں گا‘