مسابقتی کمیشن یعنی سی سی پی نے گمراہ کن مارکیٹنگ میں ملوث پائے جانے پر میزان بیوریجز (پرائیویٹ) لمیٹڈ پر 15 کروڑ روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے۔
کمیشن کے مطابق میزان کی جانب سے تیار کردہ ’اسٹورم‘ انرجی ڈرنک کی پیکجنگ اور مجموعی تجارتی انداز پیپسی کی ’اسٹنگ‘ انرجی ڈرنک سے اس حد تک مماثلت رکھتا ہے کہ صارفین کے لیے خریداری کے وقت دھوکا کھانے کا واضح خدشہ پیدا ہو جاتا ہے، جو مسابقتی ایکٹ 2010 کے سیکشن 10 کی خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فرٹیلائزر انڈسٹری مسابقتی کمیشن پاکستان کی رپورٹ پر برہم کیوں؟
جمعے کو جاری کیے گئے اعلامیے میں کمیشن نے قرار دیا کہ ’اسٹورم‘ انرجی ڈرنک نے ’اسٹنگ‘ کے مجموعی انداز، رنگوں کی اسکیم، بوتل کے ڈیزائن اور برانڈنگ عناصر کی نقالی کی، جس سے مارکیٹ میں صارفین کے ذہن میں کنفیوژن پیدا ہونے کا امکان بڑھ گیا۔
The Competition Commission of Pakistan fines Mezan PKR 150M for Storm copying PepsiCo's Sting (red design, lettering, bottle), confusing consumers. 7-year case (2018-2026); Sting leads market (100M+ litres, Rs15B+ sales 2023). Boosts fair competition in booming sector.… pic.twitter.com/pgKubH0hxg
— The Pakistan Index (@mysay07) January 2, 2026
فیصلے میں کہا گیا کہ یہ طرزِ عمل ’پیراسائٹک کاپیئنگ‘ کے زمرے میں آتا ہے اور پاکستانی مسابقتی قوانین کے تحت ممنوع گمراہ کن مارکیٹنگ کے مترادف ہے۔
سی سی پی کے مطابق اس کیس کی ابتدا 2018 میں اس وقت ہوئی جب پیپسی کو انکارپوریٹڈ نے شکایت دائر کی کہ میزان کی ’اسٹورم‘ انرجی ڈرنک کو جان بوجھ کر ’اسٹنگ‘ کی نقل پر تیار کیا گیا ہے تاکہ پیپسی کو کی ساکھ اور مارکیٹ میں قائم شہرت سے ناجائز فائدہ اٹھایا جا سکے۔
مزید پڑھیں: سیلز اور دسکاؤنٹ آفرز کے نام پر ہیر پھیر کرنے والے برانڈز کے ساتھ کیا ہوا؟
کمیشن کا کہنا ہے کہ میزان نے شکایت کے جواب میں اصل نکات پر مؤقف اختیار کرنے کے بجائے کمیشن کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا اور طویل قانونی کارروائی کے ذریعے تحقیقات میں تاخیر کی۔
میزان بیوریجز نے 2018 اور پھر 2021 میں لاہور ہائیکورٹ سے حکمِ امتناع حاصل کیا، جس کے باعث کئی برس تک تحقیقات تعطل کا شکار رہیں۔
تاہم جون 2024 میں لاہور ہائیکورٹ نے میزان کی درخواست خارج کرتے ہوئے سی سی پی کے اختیار کو برقرار رکھا اور واضح کیا کہ شوکاز نوٹس کے ابتدائی مرحلے پر چیلنج قابلِ سماعت نہیں ہوتا۔
مزید پڑھیں: سیلز اور دسکاؤنٹ آفرز کے نام پر ہیر پھیر کرنے والے برانڈز کے ساتھ کیا ہوا؟
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ مسابقتی ایکٹ کے تحت کارروائی ٹریڈ مارک قوانین سے الگ نوعیت کی ہوتی ہے اور مشاہدہ کیا کہ میزان نے عدالتی کارروائی کو ضابطہ جاتی عمل میں تاخیر کے لیے استعمال کیا۔
کمیشن نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ میزان کی ’اسٹورم‘ انرجی ڈرنک میں سرخ رنگ پر مشتمل غالب رنگوں کی اسکیم، نمایاں اور ترچھی سفید تحریر، جارحانہ بصری انداز، اور تقریباً یکساں بوتل کی ساخت اختیار کی گئی، جو ایک عام صارف کو گمراہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
مزید پڑھیں:کیا پاکستان میں چینی ای کامرس پلیٹ فارم ٹیمو پر پابندی لگے گی؟
سی سی پی نے اس امر پر زور دیا کہ دھوکے کا تعین باریک فرق تلاش کرنے کے بجائے مجموعی تجارتی تاثر کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
کمیشن نے مزید واضح کیا کہ اگرچہ میزان کے پاس ’اسٹورم‘ کے نام سے رجسٹرڈ ٹریڈ مارک موجود ہے۔
تاہم یہ رجسٹریشن مسابقتی قوانین کے تحت ذمہ داری سے بری ہونے کا ذریعہ نہیں بن سکتی، خاص طور پر ایسی صورت میں جب صارفین کو دھوکا دینے اور کسی دوسرے برانڈ کی نقالی کے شواہد سامنے آ جائیں۔

















