یمن کے معاملے پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی دانشمندی کو سراہتے ہیں، ترجمان دفتر خارجہ

جمعہ 2 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے میڈیا کے ایک سوال کے جواب میں یمن کی موجودہ صورتحال پر پاکستان کے مؤقف سے آگاہ کیا ہے۔

ترجمان کے مطابق پاکستان یمن کے مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے پیش رفت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ پاکستان یمن کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے اور امید ظاہر کرتا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے اٹھائے گئے مثبت اقدامات یمن کے مسئلے کے پرامن حل میں معاون ثابت ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے: متحدہ عرب امارات کا یمن میں تعینات اپنے فوجی یونٹس واپس بلانے کا اعلان

ترجمان نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی قیادت کی دانشمندی اور دوراندیشی کو سراہتا ہے، جنہوں نے یمن کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اور مثبت کردار ادا کیا۔ ان اقدامات سے دونوں برادر ممالک کی خطے میں امن اور استحکام کے لیے مشترکہ خواہش کا اظہار ہوتا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں دیرپا امن و استحکام کے لیے شراکت داری، بھائی چارے اور اتحاد کی اقدار کو فروغ دینے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

سعودی عرب: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی او آئی سی اجلاس میں شرکت

کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: 133 افغان طالبان کارندے ہلاک، 2 کور ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد اہم ترین فوجی مراکز تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟