پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے بیان پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا بیان حقائق کو مسخ کرنے اور موجودہ حکومت کی بدترین انتظامی، معاشی اور امن و امان کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔
مرکزی شعبہ اطلاعات پی ٹی آئی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ موجودہ حکومت ترقی و خوشحالی کے جھوٹے دعووں اور الزام تراشی کے ذریعے قوم کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے، تاہم یہ فارمولا اب بے سود ہو چکا ہے۔ قوم بخوبی جانتی ہے کہ عمران خان کی قیادت میں پاکستان کی معیشت ترقی کے راستے پر گامزن تھی۔
یہ بھی پڑھیے: مصنوعی گروتھ نہیں، پائیدار ترقی ہدف ہے، حکومت محتاط معاشی پالیسی پر عمل پیرا ہے، احسن اقبال
پی ٹی آئی کے مطابق 2018 سے 2022 کے دوران برآمدات میں اضافہ، صنعتوں کا استحکام، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، کسان اور مزدور طبقے کی خوشحالی اور روزگار کے مواقع میں اضافہ نمایاں رہا۔ بیان میں سوال اٹھایا گیا کہ اگر پی ٹی آئی نے ترقی کا راستہ روکا تھا تو آج بلوچستان بدترین بدامنی اور پرتشدد واقعات کی لپیٹ میں کیوں ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ تحریکِ انصاف کے دور میں بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی جبکہ سی پیک کو محض سڑکوں تک محدود رکھنے کے بجائے صنعتی اور زرعی ترقی کے دوسرے مرحلے میں داخل کیا گیا۔ پی ٹی آئی کے مطابق عمران خان نے محروم اضلاع کے لیے 600 ارب روپے سے زائد کا ترقیاتی پیکیج دیا، گوادر پورٹ کو فعال کیا، بارڈر مارکیٹس قائم کیں اور اسپیشل اکنامک زونز پر کام تیز کیا، جس کا اعتراف چینی حکام بھی کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: عمران خان کو پی ٹی آئی نہیں ہماری تحریک رہا کروائے گی، اقرار الحسن کا دعویٰ
پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت کی نااہلی کے باعث بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں 70 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے، گوادر کے عوام سڑکوں پر ہیں اور چینی سرمایہ کار عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ جھوٹے بیانیوں سے ملکی مسائل حل نہیں ہوں گے، ترقی کا واحد راستہ عوام کو ان کا مینڈیٹ اور حقوق دینا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ دن حکومتی وزیر احسن اقبال نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت کی توجہ انتقامی کارروائیوں پر تھی، ایک دوسرے سے لڑکر کامیاب نہیں ہوسکتے، 2018 میں معیشت کو دھچکا لگا تھا اس لیے اب ترقی کی اپنی رفتار بڑھانی ہوگی۔














