مقبوضہ کشمیر ’خاموش اور اُداس‘، مگر یہ خاموشی خطرناک ہے: کنسرنڈ سٹیزنز گروپ کی چشم کشا رپورٹ

ہفتہ 3 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

۔

بھارت کے ایک معروف سول سوسائٹی گروپ کنسرنڈ سٹیزنز  نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ جموں و کشمیر بظاہر تو خاموش ہے، مگر یہ خاموشی امن یا بہتری کی علامت نہیں بلکہ خوف، دباؤ، نگرانی اور دبے ہوئے غصے کا نتیجہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ دبایا گیا غصہ ایک ایسے آتش فشاں کی مانند ہے جو کسی بھی لمحے پھٹ سکتا ہے، اور اس کے لیے صرف ایک محرک درکار ہے۔

کشمیر کا دورہ اور زمینی حقائق

یہ رپورٹ 28 سے 31 اکتوبر 2025 کے دوران کشمیر اور جموں کے تفصیلی دورے کے بعد مرتب کی گئی۔ 4 روزہ دورے کے دوران گروپ نے سیاسی رہنماؤں، سول سوسائٹی کے اراکین، تاجروں، صحافیوں، طلبہ، وکلا، ڈاکٹروں اور مذہبی شخصیات سمیت درجنوں افراد سے ملاقاتیں کیں۔
گروپ کا کہنا ہے کہ زمینی حقیقت ہندوستانی حکومت کے سرکاری بیانیے سے بالکل مختلف ہے۔

کنسرنڈ سٹیزنز گروپ کون ہے؟

کنسرنڈ سٹیزنز گروپ 2016 میں وادی کشمیر میں بڑے پیمانے پر احتجاج کے بعد قائم کیا گیا تھا۔
اس کے اراکین میں سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا، سماجی کارکن سشوبابھا روے، ایئر وائس مارشل (ریٹائرڈ) کپل کاک اور سینئر صحافی بھارت بھوشن شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے نیشنل کانفرنس کے اجلاس میں مودی سرکار پر کڑی تنقید، مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ

گروپ نے واضح کیا کہ ان کا کسی سیاسی جماعت یا حکومت سے کوئی تعلق نہیں اور ان کے تمام دورے ذاتی وسائل سے کیے جاتے ہیں۔ حالیہ دورہ کشمیر کا ان کا گیارہواں دورہ تھا۔

’خاموش اور اُداس‘ کشمیر

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیر اس وقت ’خاموش اور اُداس‘ ہے۔ اختلافِ رائے کا اظہار خطرناک ہو چکا ہے اور 2019 کے بعد سے بیگانگی اس حد تک بڑھ چکی ہے جو ماضی میں کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ غصہ اب صرف وادی تک محدود نہیں رہا بلکہ جموں میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔

خوف سب سے مشترک احساس

تقریباً تمام ملاقاتوں میں سب سے نمایاں اور مشترک جذبہ خوف تھا۔
سری نگر کے ایک سینئر ڈاکٹر نے گروپ کو بتایا ’ہمیں خاموش کر دیا گیا ہے، لیکن یہ خوفناک خاموشی اس بات کی دلیل نہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ دبایا گیا غصہ اور مایوسی ایک ایسے آتش فشاں کی مانند ہے جو نفرت کی سرحد پر کھڑا ہے اور کسی بھی لمحے پھٹ سکتا ہے۔‘

مزید پڑھیں: بی جے پی کا میرٹ پر حملہ: کشمیری مسلم طلبہ کے داخلوں پر مذہبی اعتراضات

متعدد افراد نے ایک ہی جملہ دہرایا’کچھ بڑا ہونے والا ہے، کچھ بڑا ہونے والا ہے۔‘

میرواعظ عمر فاروق کے چونکا دینے والے انکشافات

رپورٹ کا سب سے چونکا دینے والا حصہ حریت رہنما میرواعظ عمر فاروق کے بیانات ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اکثر انہیں تاریخی جامع مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کرنے سے روک دیا جاتا ہے، اور جب اجازت ملتی ہے تو خطبے کے نکات پیشگی حکام کو دینا پڑتے ہیں۔
اسی طرح نکاح کی مجالس میں شرکت کے لیے بھی دولہا اور دلہن کے خاندانوں کے کوائف جمع کرانا لازمی ہے۔

میرواعظ نے یہ بھی بتایا کہ ان پر دباؤ ڈال کر ان کے سوشل میڈیا پروفائل سے حریت کانفرنس کے چیئرمین کی شناخت ہٹوائی گئی، اور اکاؤنٹ معطل کرنے کی دھمکی دی گئی۔

شناخت کا بحران اور کشمیری ہونے کا خوف

ایک ریٹائرڈ پروفیسر نے خدشہ ظاہر کیا کہ 2019 کے بعد کشمیری شناخت کے تحفظ کے لیے کوئی مؤثر بندوبست باقی نہیں رہا۔
اقتصادی محرومی کے ساتھ یہ احساس بھی بڑھ رہا ہے کہ کشمیری ہونے کی کوئی ضمانت یا تحفظ باقی نہیں۔

نوجوان: منشیات یا شدت پسندی کے درمیان پھنسے

رپورٹ کے مطابق نوجوان شدید ذہنی اور سماجی بحران کا شکار ہیں۔
گروپ کا مشاہدہ ہے کہ نوجوان 2 خطرناک راستوں کے درمیان پھنس چکے ہیں۔ منشیات کی لت اور شدت پسندی کی طرف بڑھتا ہوا رجحان۔

مئی 2025 میں آپریشن سیندور اور نومبر میں دہشتگرد حملے کے بعد انڈیا مخالف جذبات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

جمہوریت محض رسمی، اصل اختیار لیفٹیننٹ گورنر کے پاس

سیاسی سطح پر رپورٹ کا کہنا ہے کہ 2024 کے اسمبلی انتخابات کے باوجود جمہوریت محض ایک رسمی ڈھانچہ بن چکی ہے۔
عمر عبداللہ کی قیادت میں منتخب حکومت کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے، مگر حقیقی اختیار بدستور لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہے۔
عمر عبداللہ نے خود گروپ کو بتایا کہ وہ خود کو ’آدھا وزیر اعلیٰ‘ محسوس کرتے ہیں۔

ریاستی درجہ، عدالتی خلا اور ادارہ جاتی ناکامی

رپورٹ یاد دلاتی ہے کہ اکتوبر 2024 میں اسمبلی نے ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد منظور کی تھی، مگر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
ریاستی درجہ نہ ہونے کے باعث انسانی حقوق کمیشن، صارفین کے ادارے اور اپیلٹ فورمز مؤثر طور پر کام نہیں کر پا رہے۔

نئی ریزرویشن پالیسی: ’ٹائم بم‘

طلبہ نے نئی ریزرویشن پالیسی کو ’ٹائم بم‘ قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس پالیسی کے تحت 69 فیصد کشمیری بولنے والی مسلم آبادی کے لیے نوکریوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں نشستیں 40 فیصد سے بھی کم رہ گئی ہیں۔

میڈیا پر دباؤ اور صحافتی آزادی کا بحران

رپورٹ کے مطابق 2024 کے انتخابات کے باوجود صحافتی آزادی بحال نہیں ہو سکی۔
سنسرشپ، نگرانی اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے، متعدد صحافیوں کی ایکریڈیشن منسوخ کی جا چکی ہے، جبکہ صحافی عرفان معراج کی طویل حراست کو مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

معاشی تباہی اور سیاحت کا خاتمہ

اقتصادی محاذ پر صورتِ حال مزید خراب ہو چکی ہے۔
پہلگام حملے کے بعد سیاحت تقریباً ختم ہو گئی، ہزاروں افراد روزگار سے محروم ہو گئے، جبکہ سری نگر جموں ہائی وے کی بندش نے سیب کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا۔

جموں میں بھی بڑھتی بیگانگی

رپورٹ کے مطابق ہندو اکثریتی جموں میں بھی غصہ اور بیگانگی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
آپریشن سیندور کے بعد گولہ باری کے واقعات شہر کے قریب تک پہنچ گئے اور بعض علاقوں میں مسلمانوں کے سماجی بائیکاٹ کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

رپورٹ کا انتباہ

کنسرنڈ سٹیزنز گروپ نے اپنی رپورٹ ایک واضح انتباہ کے ساتھ ختم کی ہے کہ اگر سیاسی مکالمہ، ریاستی درجہ کی بحالی، انتظامی اصلاحات اور اقتصادی تحفظ پر فوری اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو کشمیر پر چھائی یہ خاموشی زیادہ دیر برقرار نہیں رہے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وینیزویلا پر امریکی حملے کے بعد ’جیک رائن‘ سیریز کا کلپ کیوں وائرل ہوا؟

ریٹائرمنٹ کے بعد لیونل میسی کیا کرنا پسند کریں گے؟ فٹبالر نے خود بتادیا

پی ٹی آئی کا 8 فروری کو کوئی شو نہیں ہوگا، یہ پہیہ جام ہڑتال کی صلاحیت نہیں رکھتے، رانا ثنااللہ

پنجاب میں دھند کا راج برقرار، مختلف موٹرویز بند

امریکا کے بغیر روس اور چین کو نیٹو کا کوئی خوف نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

خیبرپختونخوا میں گورنر راج، کیا سہیل آفریدی کی چھٹی کا فیصلہ ہوگیا؟

تبدیلی ایک دو روز کے دھرنے سے نہیں آتی، ہر گلی محلے میں عوام کو متحرک کریں گے، سلمان اکرم راجا

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟