نیشنل کانفرنس کے اجلاس میں مودی سرکار پر کڑی تنقید، مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ

منگل 9 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیشنل کانفرنس کی ورکنگ کمیٹی نے غیر قانونی طور پر بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت اور ریاستی درجہ بحال نہ کرنے پر مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

27 اور 28 نومبر 2025 کو ہونے والے اجلاس میں کمیٹی نے کئی قراردادیں متفقہ طور پر منظور کیں۔

مزید پڑھیں: بھارت مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی طرز کے قبضے کا ماڈل دہرا رہا ہے، آل پارٹیز حریت کانفرنس

خصوصی حیثیت کی بحالی پر مؤقف کی توثیق

ورکنگ کمیٹی نے پہلی قرارداد میں واضح کیاکہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی عوام کی امنگوں اور وقار کا بنیادی تقاضا ہے۔ پارٹی نے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے کہاکہ مکمل بحالی کے لیے اصولی جدوجہد جاری رہے گی اور اس معاملے کو مزید التوا کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔

ریاستی درجہ فوری بحال کرنے کا مطالبہ

دوسری قرارداد میں بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت فوراً بحال کی جائے۔

کمیٹی نے کہاکہ یہ وعدہ بھارتی پارلیمنٹ میں اور عوامی سطح پر کئی بار دہرایا گیا تھا، جس کا حوالہ سپریم کورٹ کی آئینی بینچ بھی دے چکی ہے۔

نیشنل کانفرنس پر عوامی دباؤ

قراردادوں میں اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا گیا کہ اگرچہ نیشنل کانفرنس کو بھارت نواز جماعت قرار دیا جاتا ہے، مگر عوامی دباؤ نے پارٹی کو مجبور کیا ہے کہ وہ مودی حکومت کی جانب سے ریاستی حیثیت بحال نہ کرنے پر تنقیدی مؤقف اپنائے۔

کشمیریوں کو جھوٹے الزامات پر نشانہ بنانے کی مذمت

قراردادوں میں مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو بھارت میں عسکریت پسندوں کی حمایت کے جھوٹے تاثر کے تحت نشانہ بنائے جانے کی مذمت کی گئی۔

کمیٹی کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کی منظم بدنامی کا سلسلہ بند ہونا چاہیے اور انہیں غلط طور پر شدت پسندوں کے حامی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

تیسری قرارداد میں نوگام دھماکے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی گئی۔ کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کی جائیں۔

بھارت بھر میں کشمیریوں کے تحفظ کا مطالبہ

چوتھی قرارداد میں بھارت کی مختلف ریاستوں میں کشمیری طلبہ، تاجروں اور رہائشیوں کو درپیش ہراسانی کی مذمت کی گئی۔ کمیٹی نے کہا کہ حالیہ واقعات کے بعد کشمیریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا ہے، جو قابلِ قبول نہیں۔

کمیٹی نے زور دیا کہ ملک میں رہنے یا کام کرنے والے جموں و کشمیر کے شہریوں کی جان، مال اور عزت کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ قرارداد میں کہا گیا ہر کشمیری دہشتگرد یا دہشتگردی کا حامی نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: بی جے پی کا میرٹ پر حملہ: کشمیری مسلم طلبہ کے داخلوں پر مذہبی اعتراضات

مودی حکومت کو خصوصی حیثیت بحال کرنا ہوگی

قراردادوں میں خبردار کیا گیا کہ اگر مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال نہ کی تو شدید عوامی ردعمل سامنے آسکتا ہے۔ کمیٹی کے مطابق وہ جماعتیں جو اب تک عوامی غصے کو کم کرنے کے لیے ’سیفٹی والو‘ کا کردار ادا کر رہی تھیں، شدید دباؤ کا شکار ہو جائیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 45 روز کی توسیع پر اتفاق

ڈیزل اور پیٹرول کی فی لیٹر قیمتوں میں 5،5 روپوں کی کمی کردی گئی

امریکا نے پولینڈ میں 4 ہزار فوجیوں کی تعیناتی کا منصوبہ منسوخ کردیا

فاطمہ ثنا کا ایک اور سنگ میل: صرف 15 گیندوں پر نصف سینچری بناکر ٹی 20 کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا

ڈاکٹر انعم فاطمہ پر ٹرولنگ، پی ٹی آئی کا خواتین کے ساتھ رویہ ایک بار پھر آشکار

ویڈیو

کوکین کوئین کے خلاف اگر منشیات اور اسلحہ رکھنے کا جرم ثابت ہوجائے تو مجموعی طور پر کتنی سزا ہوسکتی ہے؟

امریکا چین مذاکرات میں تجارت پر بات، اور روبیو کے نام سے جڑا دلچسپ معاملہ، آبنائے ہرمز بھی زیرِ بحث

پاکستان کا پہلا پانڈا بانڈ اجرا، وزیر خزانہ نے چین کے ساتھ مالی تعاون کو تاریخی سنگ میل قرار دے دیا

کالم / تجزیہ

جب محافظ ہی زہر فروشوں کے نگہبان بن جائیں

کبھی آپ نے ‘ناکامی’ کی تقریب منائی ہے؟

زخمی کھلاڑی کی شاندار اننگز