مسلمانوں کے بعد عیسائیوں کے لیے بھی بھارت میں جگہ تنگ، وال اسٹریٹ جرنل نے مودی کے بھارت کا بدنما چہرہ عیاں کردیا

ہفتہ 3 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد اور نفرت انگیز کارروائیوں میں تشویشناک اضافہ سامنے آ رہا ہے۔ خاص طور پر مسیحی برادری، جو آبادی کا ایک نہایت قلیل اور غریب طبقہ ہے، حالیہ ہفتوں میں منظم حملوں، دھمکیوں اور تضحیک آمیز کارروائیوں کا نشانہ بنی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ صورتِ حال بھارت کے سیکولر تشخص اور آئینی اقدار پر سنگین سوالات اٹھا رہی ہے۔

مودی دور میں اقلیتوں کے خلاف تشدد

2014 میں نریندر مودی کے وزیرِاعظم بننے کے بعد بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سب سے زیادہ نشانہ مسلمان بنے، جنہیں ملازمت، تعلیم، رہائش اور ووٹنگ جیسے بنیادی حقوق میں امتیاز کا سامنا ہے۔ تاہم حالیہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسیحی برادری بھی اب اسی نفرت اور تشدد کی لپیٹ میں آ چکی ہے۔

مسیحی برادری اور جبری تبدیلی مذہب کا بیانیہ

بھارت میں مسیحیوں کی آبادی محض 2.3 فیصد ہے، اس کے باوجود انتہا پسند ہندو حلقوں کی جانب سے انہیں جبری تبدیلی مذہب کا الزام لگا کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بھارت کی 12 ریاستوں میں ایسے قوانین نافذ ہیں جو مبینہ طور پر ’جبر، دھوکے یا لالچ‘ کے ذریعے مذہب کی تبدیلی کو جرم قرار دیتے ہیں، جبکہ عملی طور پر ہر قسم کی تبلیغ کو مشکوک بنا دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کرسمس کی تقریبات میں خواتین پر ہندوتوا کارکنان کا حملہ، زبردستی اور بدسلوکی کی ویڈیوز وائرل

کرسمس پر حملے اور نفرت انگیز نعرے

کرسمس، جو آزادی کے بعد سے بھارت میں سرکاری تعطیل ہے، حالیہ برسوں میں تنازع کا شکار ہو گئی ہے۔ اتر پردیش کے وزیرِاعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جیسے رہنما کھلے عام کرسمس کی تعطیل کے خلاف بیانات دے چکے ہیں۔

اسی ریاست میں کرسمس ایو کے موقع پر گرجا گھروں کے باہر ہجوم جمع ہوئے اور مسیحی مشنریوں کے خلاف نفرت انگیز نعرے لگائے گئے۔

ریاستی سطح پر تشدد کے واقعات

مدھیہ پردیش میں ایک بی جے پی رہنما کی جانب سے چرچ میں داخل ہو کر کرسمس تقریب میں خلل ڈالنے اور ایک نابینا خاتون پر تشدد کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔

چھتیس گڑھ کے شہر رائے پور میں شاپنگ مال میں کرسمس کی سجاوٹ توڑی گئی اور سانتا کلاز کی مورتیاں نقصان کا شکار بنیں۔ اس نوعیت کے واقعات بی جے پی کے زیرِانتظام متعدد ریاستوں میں رپورٹ ہوئے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کی تشویش

بھارتی انسانی حقوق کی تنظیم سٹیزنز فار جسٹس اینڈ پیس کے مطابق یہ کرسمس “اکثریتی بالادستی کے اظہار کا قومی مرکز” بن گیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ کرسمس کی علامتوں کو نشانہ بنانا محض اتفاقی ردِعمل نہیں بلکہ ایک علامتی پیغام ہے کہ مسیحی شناخت قابلِ قبول نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ہندی سیکھو ورنہ نکل جاؤ، بی جے پی کونسلر کی غیر ملکی کوچ کو سرعام دھمکی

یونائیٹڈ کرسچن فورم کے مطابق 2014 میں مسیحیوں پر حملوں کے 139 واقعات رپورٹ ہوئے، جو 2024 میں بڑھ کر 834 ہو گئے، جبکہ 2025 میں نومبر تک 706 واقعات سامنے آ چکے ہیں۔

بین الاقوامی ردِعمل

امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے اپنی 2025 کی رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ بھارت کو ’خاص تشویش کا حامل ملک‘ قرار دیا جائے، جہاں مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں ایسے واقعات کی مثالیں بھی دی گئیں جہاں پولیس کی عدم مداخلت کے باعث حملہ آور بلا خوف کارروائیاں کرتے رہے۔

مودی کا بیان اور تنقید

کرسمس کے موقع پر وزیرِاعظم نریندر مودی نے نئی دہلی کے ایک چرچ میں عبادت میں شرکت کی اور محبت و ہم آہنگی کا پیغام دیا۔ تاہم مسیحی برادری اور سیکولر حلقوں نے اس بیان کو محض نمائشی قرار دیا، کیونکہ زمینی حقائق میں تشدد کرنے والے عناصر کے خلاف کسی واضح مذمت یا کارروائی کا اعلان سامنے نہیں آیا۔

سیکولرازم پر سوال

بھارت کا سیکولر نظام جو 1950 کے آئین میں درج ہے، ماضی میں بھی کمزور رہا، مگر مبصرین کے مطابق مودی دور میں سیکولرازم کی عملی حیثیت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ریاستی قیادت کھل کر تشدد کی مذمت نہیں کرتی تو خاموشی خود ایک پیغام بن جاتی ہے، اور شاید اسی خاموشی میں بہت سے سوالوں کا جواب پوشیدہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp