امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے یوٹاہ کے ریپبلکن سینیٹر مائیک لی کو بتایا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو امریکی اہلکاروں نے گرفتار کر لیا ہے اور انہیں مجرمانہ الزامات پر امریکا میں مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
سینیٹر مائیک لی نے ہفتے کی صبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ روبیو نے انہیں آگاہ کیا کہ مادورو کی گرفتاری کے دوران نظر آنے والی “کائنیٹک کارروائی” دراصل گرفتاری کے وارنٹ پر عمل درآمد کرنے والے اہلکاروں کے تحفظ اور دفاع کے لیے کی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: وینزویلا غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی کی مزاحمت کرے گا: وزیر دفاع
مائیک لی کے مطابق یہ اقدام امریکی آئین کے آرٹیکل ٹو کے تحت صدر کے اختیارات میں آتا ہے، جس کا مقصد امریکی اہلکاروں کو کسی حقیقی یا فوری خطرے سے بچانا ہے۔ سینیٹر نے مزید کہا کہ روبیو کے بقول مادورو کے امریکی تحویل میں آ جانے کے بعد وینزویلا میں مزید کسی کارروائی کی توقع نہیں۔
یہ بھی پڑھیے: وینزویلا پر امریکا کا حملہ، صدر نکولس مادورو اور انکی اہلیہ کو حراست میں لے لیا، صدر ٹرمپ کا دعویٰ
سی این این نے اس معاملے پر امریکی محکمہ خارجہ سے مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ہفتے کی صبح سینیٹر مائیک لی نے اس کارروائی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایکس پر لکھا تھا کہ وہ یہ جاننے کے منتظر ہیں کہ جنگ کے اعلان یا فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت کے بغیر اس اقدام کو آئینی طور پر کیسے جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔














