وینزویلا کے وزیر دفاع ولادی میر پیڈرینو نے کہا ہے کہ ملک کسی بھی غیر ملکی فوجی موجودگی کی سخت مزاحمت کرے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: وینزویلا کے صدر کو امریکا میں مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے تحویل میں لیا، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
ہفتے کی صبح جاری ایک ویڈیو پیغام میں وزیر دفاع نے الزام لگایا کہ امریکا نے علی الصبح وینزویلا پر حملہ کیا، جس میں شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ولادی میر پیڈرینو کے مطابق ان حملوں میں جانی و مالی نقصان ہوا ہے اور حکومت اس وقت ہلاک اور زخمی ہونے والوں سے متعلق معلومات اکٹھی کر رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ وینزویلا اپنی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور اگر غیر ملکی افواج نے ملک میں قدم رکھا تو بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔
تاحال امریکی حکام کی جانب سے شہری علاقوں پر حملے یا صدر مادورو کی گرفتاری کے حوالے سے وینزویلا کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
صدر مادورو اور خاتونِ اول کے ٹھکانے کا علم نہیں، نائب صدر
تاہم وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے کہا ہے کہ حکومت کو اس وقت صدر نکولس مادورو اور خاتونِ اول سیلیا فلورس کے ٹھکانے کا علم نہیں۔
نائب صدر کے مطابق حکومت نے دونوں کے لیے فوری طور پر زندگی کا ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔














