سندھ ہائیکورٹ کے 12 ایڈیشنل ججز کی مستقل تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 13 جنوری کو طلب کیا گیا ہے، اجلاس چیف جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں ڈیڑھ بجے سپریم کورٹ میں ہوگا۔
اجلاس میں جسٹس میراں محمد شاہ، جسٹس تسلیم سلطانہ اور جسٹس ریاضت علی سحر کی مستقلی کے ساتھ ساتھ جسٹس محمد حسن اکبر، جسٹس خالد حسین شہانی، اور جسٹس عبدالحامد بھرگی کی مستقل حیثیت پر غور کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: جوڈیشل کمیشن کا اجلاس: سندھ اور بلوچستان ہائیکورٹس کے نئے چیف جسٹس نامزد
مزید برآں، جسٹس سید فیاض الحسن شاہ، جسٹس جان علی جونیجو اور جسٹس ناصر احمد بھنبوڑو کی مستقلی کے معاملات بھی زیر بحث آئیں گے، جبکہ جسٹس علی حیدر ادا، جسٹس عثمان علی اور جسٹس محمد جعفر رضا کی مستقل تقرری پر بھی غور کیا جائے گا۔
اجلاس میں سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچز کی مدت میں توسیع کے معاملات پر بھی بحث متوقع ہے۔
مزید پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم: سپریم جوڈیشل کونسل، جوڈیشل کمیشن اور پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کی ازسرِنو تشکیل
دوسری جانب چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا ایک اور اجلاس 14 جنوری کو ڈیڑھ بجے سپریم کورٹ میں ہوگا، جس میں پشاور ہائیکورٹ کے 10 ایڈیشنل ججز کی مستقلی کے معاملات پر غور کیا جائے گا۔
اجلاس میں پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد طارق آفریدی، جسٹس عبد الفیاض اور جسٹس فرح جمشید کی مستقلی کے علاوہ جسٹس انعام اللہ خان، جسٹس صبعت اللہ، اور جسٹس صلاح الدین کی مستقل حیثیت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: جوڈیشل کمیشن نے چاروں ہائیکورٹس کے مستقل چیف جسٹس صاحبان کے ناموں کی منظوری دے دی
مزید برآں، جسٹس صادق علی، جسٹس مدثر امیر، جسٹس اورنگزیب، اور جسٹس قاضی جواد احسان اللہ کی مستقلی پر بھی بحث ہوگی۔
جوڈیشل کمیشن کے اس اجلاس کا مقصد ایڈیشنل ججز کی مستقل تقرری کے معاملات کو حتمی شکل دینا ہے تاکہ پشاور ہائیکورٹ کی کارکردگی میں استحکام اور عدالتی نظام میں شفافیت برقرار رہے۔













