لاہور کی ضلعی عدالت نے شہریوں کے ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ کے لیے ایک تاریخی اور دور رس اثرات کا حامل فیصلہ سناتے ہوئے پولیس کے اختیارات پر واضح قانونی حد بندی عائد کر دی ہے۔
اپنے تحریری فیصلے میں ایڈیشنل سیشن جج لاہور شفقت راجہ نے قرار دیا ہے کہ پولیس کسی بھی شہری کا موبائل فون، اس میں موجود ڈیٹا، پیغامات، تصاویر یا سوشل میڈیا مواد عدالت کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چیک نہیں کر سکتی۔
عدالت نے فیصلے میں واضح کیا کہ شہریوں کی نجی زندگی کا تحفظ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 14 کے تحت ایک ناقابلِ تنسیخ بنیادی حق ہے، جبکہ اظہارِ رائے اور معلومات تک رسائی کا حق آئین کے آرٹیکل 19 کے ذریعے محفوظ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور پولیس کا ’مشینی مخبر‘: اب مصنوعی ذہانت چور ڈکیت پکڑوائے گی!
عدالتی فیصلے کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے ان آئینی حقوق کو پامال کرنے کے مجاز نہیں اور کسی بھی شہری کی ڈیجیٹل تلاشی صرف قانونی طریقۂ کار کے تحت ہی ممکن ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج شفقت راجہ نے اپنے حکم میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ عدالتی اجازت کے بغیر موبائل فون کی تلاشی غیر قانونی تصور ہوگی، اور ایسی کسی بھی کارروائی میں ملوث افسران کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ شہریوں کو ہراساں کرنے یا اختیارات کے ناجائز استعمال کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔
مزید پڑھیں:لاہور پولیس کی برق رفتار کارروائی، خاتون سے گاڑی چھیننے والے ملزمان گرفتار
قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف شہریوں کے ڈیجیٹل پرائیویسی حقوق کے تحفظ کی جانب ایک مضبوط قدم ہے بلکہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک واضح پیغام بھی ہے کہ کوئی ادارہ یا فرد آئین اور قانون سے بالاتر نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے پولیس کی کارروائیوں میں شفافیت بڑھے گی اور شہریوں کا نظامِ انصاف پر اعتماد مزید مستحکم ہوگا۔
عدالتی حلقوں میں اس فیصلے کو ڈیجیٹل دور میں شہری آزادیوں اور نجی زندگی کے تحفظ کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔














