بنگلہ دیش نے آئندہ قومی انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی فورسز کو غیر معمولی اختیارات دینے کا اعلان کر دیا ہے۔
مشیرِ داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد جہانگیر عالم چوہدری کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پولنگ اسٹیشنز سمیت کسی بھی مقام پر ممکنہ بدامنی کو بروقت روکنے کے لیے کسی بھی وقت داخل ہونے کی اجازت ہوگی۔
وزارتِ داخلہ ڈھاکہ میں امن و امان سے متعلق مشاورتی کمیٹی کے 19ویں اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ انتخابی مدت کے دوران سکیورٹی اداروں کو باہمی رابطے کے ساتھ مزید فعال اور مؤثر انداز میں کام کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش قومی انتخابات سے پہلے 28 فیصد امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد
مشیرِ داخلہ نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ سیاسی سرگرمیاں اور انتخابی مہمات امن و امان کی صورتحال کو متاثر نہ کریں۔
انہوں نے سیاسی جماعتوں، امیدواروں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ پُرامن انتخابی ماحول کے قیام میں تعاون کریں اور ضابطۂ اخلاق کی مکمل پابندی کریں۔
محمد جہانگیر عالم چوہدری نے خبردار کیا کہ سڑکیں بند کرنے یا عوام کو کسی بھی قسم کی تکلیف پہنچانے کی صورت میں سیکیورٹی ادارے فوری کارروائی کریں گے اور اس ضمن میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
مزید پڑھیں:گہری دھند کے باعث بنگلہ دیش میں اہم دریائی راستوں پر فیری سروس معطل
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں انٹیلیجنس نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے اور مختلف سیکیورٹی اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو بھی مضبوط بنایا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
جولائی کی عوامی تحریک کے رہنما شریف عثمان بن ہادی کے قتل کیس کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اس کا حتمی چالان جلد پیش کر دیا جائے گا۔
انہوں نے سیاسی جماعتوں کو متنبہ کیا کہ وہ چوکنا رہیں تاکہ تخریبی یا انتہاپسند عناصر سیاسی اختلافات کا فائدہ نہ اٹھا سکیں۔
مشیرِ داخلہ نے 13 دسمبر 2025 کو شروع کیے گئے ’آپریشن ڈیول ہنٹ: فیز 2‘ سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اب تک 14 ہزار 569 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ اس دوران اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:بنگلہ دیش کی برآمدات 5ویں ماہ بھی کمزور، دسمبر میں 14 فیصد کمی ریکارڈ
’زیرِ التوا مقدمات اور وارنٹس کے تحت ہونے والی گرفتاریوں کو شامل کیا جائے تو ملک بھر میں مجموعی طور پر 33 ہزار 804 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ جرائم کی روک تھام کے لیے چیک پوسٹس اور گشت میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔
اجلاس میں موسمِ سرما کی شدید دھند کے باعث سڑکوں کی حفاظت، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، سوشل میڈیا پر افواہوں اور اشتعال انگیز مواد کی روک تھام، اور بنگلہ دیش اور میانمار سرحد پر سکیورٹی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔














